تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 552 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 552

دے رہے ہیں۔سمجھ میں نہیں آتا کہ احمدیوں کو کس قانون کی کسی دفعہ کی رو سے اقلیت قرار دیئے جانے اور کس جرم کی پاداش میں وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔اب اگر کہا جائے کہ پاکستان اسلامی (غیر احمدی) ریاست ہے تو سب سے بڑی رکاوٹ تو یہی ہے که پاکستان کا دستور مملکت ہی نہیں ہے۔جس کی کسی وضعہ سے اسلامی مملکت کا ہونا ثابت ہو۔سمجھداری کی بات یہ تھی کہ پہلے قانون بنانے پر زور دیا جاتا اور اسلامی شرعی قوانین نافذ کروائے جاتے اور نفاذ میں یہ سوال بھی اٹھتا تو غور کے قابل بنتا۔علماء نے ایسا نہیں کیا۔اور سیاسی مکرو فریب کے شکار ہو گئے۔حقیقت یہ ہے کہ آج علماء سو کی افسوسناک سیاست سے ملت اسلامیہ تنگ آچکی ہے۔وہ اس الحاد دو بیدینی کے شاکی ہیں۔جو مسلمانوں کے مغربی تعلیم یافتہ میں عام ہوتی جا رہی ہے۔لیکن وہ یہ بھولتے ہیں۔کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کو مذہب سے دور کرنے میں مغربی تعلیم کا اتنا ہا تھہ نہیں ہے جتنا کہ ان اجارہ داران دین وملت کا ہاتھ ہے۔جو اپنے دنیاوی اعتراض کی تکمیل کے لیے علماء کی مسند پر بیٹھ گئے ہیں۔اگر آج کمیونسٹ بیدین نظر آتا ہے تو ہمیں مارکس کی مادہ پرستی کا اتنا ہاتھہ نہیں ہے۔جتنا کہ زارینہ کے اس سازشی اور غلط کار پادری کا ہاتھ ہے۔جس نے مذہب کو حکومت کا کھلوتا بنا دیا تھا۔ہمارے نمائشی مولویوں کی قدامت پسندی - کفر سازی - تنگ نظری اور شدید قسم کی متعصبانہ روش نے تعلیم یافتہ طبقہ کو کٹھ ملاؤں و علم و محتاطین ہی سے نہیں بلکہ ان میں مذہب کی جانب سے بھی بیزاری پیدا کر دی ہے۔پاکستان کے علماء بھی روائتی کٹھ ملاؤں کی بدولت ایک غلط کہ دار پیش کر رہے ہیں ، اس طرح وہ احمدیوں کے مقابلہ میں خود اسلام کو نقصان پہنچانے کے باعث بن رہے میں تعلیم یافتہ مسلمان حبیب اس قسم کی حرکتوں کو دیکھتے ہیں۔اور مذہب کے نام پر علماء کرام کی تنگ نظرانہ روش کا مشاہدہ کرتے ہیں ، تو اس میں نفس مذہب کی جانب سے مایوسی پھیل جاتی ہے۔اور کٹھ ملاؤں کی سیاسی چال کی بدولت علماء کہ اس کی عزت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ترکی میں علماء کی تنگ نظری نے جو نتائج پیدا کئے۔وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ایران میں جو حشر ہوا۔وہ ہمارے سامنے ہے۔اور شام ومصر میں جو حالات پیدا ہوئے۔ان سے بھی ہم واقف ہیں۔بد قسمتی سے پاکستانی علماء بھی اسی راہ پر چل پڑے ہیں۔جسے پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ زیادہ دنوں تک برداشت نہیں کر سکتا۔وہ ملک کی سالمیت پر کوئی دار دیکھ کر خاموش نہیں