تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 46
ہوئی۔جس میں احمدیوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔چنانچہ اس فیصلہ کے ماتحت دکانوں پر اس مضمون کے بورڈ مولوی احراری نے لگوائے کہ دو مرزائیوں کا بائیکاٹ کرو اور ہمارا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔اور بازار میں دکانداروں اور دلال وغیرہ نے اس تحریک میں مکمل حصہ لیا جو آج تک جاری ہے۔جو گاہک سودا لیتے تھے انہیں منع کرتے تھے کہ سودا اس دکان سے نہ لو اور واپس کر دا دیتے تھے۔اور جو نہ واپس کرتے تھے ان کی ہتک کرتے تھے۔اس سلسلہ میں ایک مولوی جو کہ احراری ہے ہماری دکان کے ساتھ بٹھا دیا تاکہ لوگوں کو اشتعال دلا سکے۔اس کے بعد ۲۷ فروری ۱۹۵۳ہ سے ہر روزہ ہماری دکان کے آگے سے جلوس نکلتا جو کہ دکان کے سامنے کھڑا ہو کر فحش گالیاں اور نعرے لگاتا لیکن کوئی آدمی بھی ہماری مدد نہ کرتا۔۳۰ مارچ کو جلوس ہماری دکان کے اوریہ آگیا۔اور بد زبانی بہت کی۔اسی طرح ہمارے مکان پہ بھی ہر روز جلوس کی شکل میں آتے اور شیشے وغیرہ توڑتے۔چنانچہ کھڑکیوں اور تمین روشندانوں کے شیشے دان توڑ دیئے اس کے علاوہ مخش گالیاں نکالتے اور پتھر وغیرہ مارتے۔ہماری دکان کو کئی ماہ سے بہت نقصان ہو رہا ہے۔کوئی خرید و فروخت نہیں ہے ۱۲ - ایک احمدی کلا مقدمہ چنٹ کا بیان ہے۔اوائل ۹۵۲لہ سے ہی یار آشنا چلنے پھرتے بری نظر سے دیکھتے اور گالیاں دیتے ہوئے دکان پر آکر بھی گالیاں دینے لگے اور رعب جماتے۔ہر کہ ومہ بھی یہی سمجھنے لگا کہ احمدی ایک ذرہ سے بھی حقیر ہیں ایذا رسانی میں حدود سے تجاوز کرنے لگے حتی کہ بائیکاٹ شروع ہو گیا۔غالباً چھ ماہ تک دکان سے کوئی مال فروخت نہ ہونے دیا گیا۔میں تھوک بزاری کی دکان کرتا ہوں اور انکم ٹیکس گزار ہونے کے باوجود ادنی اونی آدمی دکان پر پکٹنگ کرتے اور گندی گالیاں سامنے کھڑے ہو کر دیتے۔۔۔۔۔ایک شخص سوئیاں بیچنے والا پٹھان مستقل پکٹنگ پر مقرر تھے۔۔۔پٹھان سخت جو شیلا تھا۔چاقو دکھایا کرتا تھا ملحقہ دکاندار اس کو شاباش کہتے اور اس کی حمایت کرتے۔جب کوئی دکان سے مال خرہ بدر تا معا ایک ہنگامہ بہ پا ہو جاتا۔پھٹنگ والے مال واپس کرواتے اور بازار راہ گیروں سے بھر جاتا۔تمام شہر میں