تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 45
محلہ اسلام آباد کے ایک احمدی کا بیان ہے : ا رما پر یچ ۱۹۵۳ء کو ہم مع بچوں کے سارا دن گھر میں قیدیوں کی طرح گھرے ہوئے تھے اور ہمیں بعض غیر احمدی رشتہ دار ہمیں کھانے کی اشیاء مہیا کرتے رہتے تھے۔قریباً تین یا چار بجے بعد دوپہر انداز پاپنی سونڈوں کا ایک مجوم جماعت احمدیہ کے خلاف گندے نعرے مارتا ہوا ہماری گلی میں داخل ہوا۔ہمارے ہمارے مرد عورت دروانہوں کے آگے کھڑے ہو کر تماشہ دیکھنے لگ گئے۔اور ہجوم نے لاٹھیوں سے مسلح تھا ہماری کھڑکیاں اور دروازے توڑنے شروع کر دیئے۔شیشے کے ٹکڑے صحن میں پہنچ رہے تھے۔ہم بیٹھک اور ڈیوڑھی کے دروازے کو اندر سے بند کر کے کوٹھے پر چڑھ گئے اور پچھلی طرف سے ہم نے اُترنے کی کوشش کی مگر پچھلی طرف سے سب ہمسایوں نے کنڈیاں لگا رکھی نہیں۔آخر چوتھے مکان پر سے میرا بیٹا اُترا۔میں نے اس کو کہا کہ پولیس چوکی گھنٹہ گھرمیں جاکر رپورٹ کر دے۔ہمارے گھر کو لوٹ رہے ہیں۔اور نہیں مارنے اور قتل کرنے کے درپے ہیں۔میں خود اپنے ایک رشتہ دار کے گھر چلا گیا۔میری بیٹی، بہو نے ایک قریبی رشتہ دار کے گھر جاکر پناہ لی۔ہجوم نے ڈیوڑھی کے دروازے کو بڑے زور سے لاٹھیوں کے ساتھ حملہ کیا جس سے ڈیوڑھی کے باہر کا دروازہ کھل گیا۔ماب نے بیٹھک کا دروازہ بھی توڑلیا اور تمام کھڑکیاں شیشے اور سامان چکنا چور کر دیا اور تمام سامان جو قریباً دو صد کا تھا برباد کر دیا اور پھر سمی دارو اور عمر حیات نے جس کو ہمارے ایک رشتہ دار نے ہماری حفاظت کے لیے بھیجا تھا۔آکر ماب کو باہر نکالا۔کوئی پولیس کا سپاہی ہماری مدد کو نہیں آیا۔اس وقت گوجر انوالہ میں کوئی گورنمنٹ موجود نہ تھی۔پولیس چوکیوں میں بیٹھی ہوئی تماشا دیکھ رہی تھی۔حتی کہ اس کے بعد بھی چار پانچ روز تک ایسا ہی حال رہا۔پھر ملڑی کی آمد کی وجہ سے لوگوں کو ڈر محسوس ہوا۔اور ہم نے آرام کا سانس لیا " - ریل بازار کے ایک احمدی دکاندار کا بیان ہے : ر ہماری دکان ریل بازار میں واقع ہے۔۳۲ / نومبر ۱۹۵۳ء کو مجلس عمل کی کانفرنس