تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 47 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 47

ہر دکان پر مرزائیوں کا مکمل بائیکاٹ کرد“ کے بورڈ آویزاں تھے۔مخالفوں نے ہماری دکان کے دروازے پر مرزائی اور گندی گالیاں لکھیں۔میرا ایک گھر دکان کے بالا خانہ میں تھا۔نیاد کے شدید آثار دیکھ کر ریعنی گھر میں اینٹیں پتھر پڑنے لگے۔گھر والوں کو گالیاں دینے لگے وغیرہ وغیرہ) اس کو اپنے دوسرے گھر میں جو مالک پورہ میں تھا اکٹھا کر دیا۔اب عوام الناس اس گھر میں بھی پتھر روڑے مارنے لگے اور گالیاں دینے لگے۔گھر سے چل کر آنا اور پھر دکان پر دن گزارنا اور پھر گھر واپس جاتا یہ تینوں سخت مصیبتیں تھیں۔راستہ بھر میں حملہ کا خون ، گندی گالیاں اور اینٹ پتھر کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔دکان پر بھی اینٹ پتھر پڑنے لگے تھے۔گالیاں اور لوٹ مار کا خوف بھی۔غرضیکہ وہ نہایت خون اور تکلیف کا وقت تھا۔رات کو حملہ کا خون نیند اچاٹ۔اسی دوران میں مارچ ۱۹۵۳ آگیا۔جلوس نکلنے شروع ہو گئے۔جلوس دکان پر ٹھہرتے۔ماتم کرتے۔گالیاں دیتے۔تکلیف انتہاء کو پہنچ گئی۔5 مارچ کی صبح کودکان پر آئے تو کسی نے کہا کہ دکان کے اندر بیٹھو۔باہر نہ بیٹھو۔حملہ ہو جائے گا اور کچھ لوگوں نے کہا کہ آج تم پر حملہ ہو گا۔ہم نے دیکھا تو اور احمدی دوستوں کی دکانیں بھی بند تھیں۔۔۔۔گھر آگئے۔دروازہ بند کیا اور محصور ہوکر رہ گئے۔اسی شب محلہ میں جلسہ ہوا۔غالباً مولوی۔۔۔نے فرمایا کوئی مرزائی زندہ نہ رہے۔بلکہ ان کا بچہ بھی۔اگلے دن صبح کو چھ سات سو افراد کا جتھہ میرے بھائی اور بہنوں کے گھروں پر جو ملحق تھے آیا اور کہا کہ ہم پہلے تم کو ختم کرتے ہیں۔پھر مرزائی کو۔وہ چونکہ غیر احمدی ہیں اور بہت سرمایہ دار۔روتے ہوئے اور چیخیں مارتے ہوئے میرے گھر آ گئے۔اور کہا خدا کے لیے ہم کو بچاؤ اور گھر سے باہر نکل کر کہدو کہ میں مسلمان ہوں۔مگر میری بڑی بیوی فاطمہ نے کہا کہ ہمارے ٹکڑے ہو جانے دو ہم ایسا نہیں کہیں گے۔اس اثناء میں جنتہ اندر ہو گیا اور نعرے مارتے ہوئے مجھے مسجد میں لے گئے اور کلمہ طیبہ پڑھوایا۔تمام مسجد بھری ہوئی متقی اور لوگ نعرے لگا رہے تھے کہ مسلمان ہوگیا کہ ۱۳ - ایک احمدی خوشنویس مکرم محمد یوسف صاحب کا بیان ہے در هم ر مارچ ۹۵۳انہ کو ہم دونوں میاں بیوی احراریوں اور مودودیوں کی دھاندلی اور ادھم