تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 547 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 547

۵۴۵ ۲ - اختبار خلافت بمبئی" (مورخہ ۱۳ مارچ ۱۹۵۳ء) نے اپنے اداریہ میں لکھا :۔احمدی تحریک کی مخالفت میں پاکستان میں جس قسم کے مجنونانہ جوش وخروش کا مظاہرہ ہورہا ہے۔اس کو کوئی ذی ہوش اور ذی فہم مسلمان پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔عقائد کا اختلاف ایک الگ) نشئی ہے۔لیکن عقائد کے اختلاف میں اتنی شدت اور سجرانی کا مظاہرہ کسی قوم کے توازن رباعی کے صحیح ہونے کی علامت نہیں۔پاکستان میں احمدی تحریک نئی نہیں ہے۔تقریبا پچاس برس یا اس سے بھی زیادہ زمانے سے ہندوستان میں احمدی عقائد کے لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں۔وہ اپنے خیالات اور عقائد کی تبلیغ بھی کرتے رہے۔لیکن کسی دور میں ان کے خلاف اتنی شدت کے ساتھ عوامی مخالفت ظہور میں نہیں آئی۔جتنی کہ پچھلے چند ہفتوں سے پاکستان میں ظاہر ہو رہی ہے۔کسی مذہبی جذبے میں اگر سیاسی اعراض اور اختلافات بھی شامل ہو جائیں تو وہ نہایت امن سوز اور خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔پاکستان میں احمدی تحریک کے خلاف عوام کے جوش و خروش کے جو مظاہرے ہو رہے ہیں۔ہمارا خیال ہے کہ وہ محض مذہبی عقائد کے اختلاف تک محدود نہیں ہیں۔بلکہ ان کی پشت پر سیاسی اعراض اور جماعتی اختلافات بھی کام کر رہے ہیں۔اگر اسی قسم کے مظاہرے اسی طرح ہوتے رہے۔اور عوام کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی آزادی دی جاتی رہی۔تو کسی منظم حکومت کا قیام ہی دشوار نظر آتا ہے افسوس ہے کہ اس وقت جبکہ پاکستان کو سینکڑوں خارجی اور داخلی مشکلات سے سابقہ ہے۔ملک کے تحفظ اور استحکام اور ترقی اور بہبودی کے بہت سے مسائل درپیش ہیں۔اتنے وسیع پیمانے پر اندرونی خلفشار برپا ہے۔اس وقت تو پاکستان کی پوری اجتماعی توت ترتی اور تعمیر کے کاموں میں صرف ہونی چاہیئے تھی۔بجائے اس کے ہو کیا رہا ہے ؟ ہر طرف مذہبی جنون کے مظاہرے۔ہنگا ہے۔گرفتاریاں قتل۔خونریزی۔حکومت امن قائم رکھنے کے لیے اور احمد میں فرقہ کے افراد کے جان ومال کے تحفظ کے لیے جو کچھ کر رہی ہے۔وہ اس کا فرض ہے۔اس کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیئے۔ہر مہذب حکومت ان حالات میں ہی کرے گی۔لیکن ملک میں جب کوئی مذہبی تحریک مد اعتدال سے متجاوز ہو جاتی ہے اور اس کو سختی سے