تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 546
۵۴۴ قادیانی کو مسیح موعود مانتے ہیں لیکن جب تک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، خاتم النبیین کی رسالت اور آپ کے خاتم النبیین ہونے پر ان کا ایمان وایقان ہے اس وقت تک دائرہ اسلام سے انہیں کوئی خارج نہیں کر سکتا اور یوں حرف گیری پیراگر کوئی آئے تو ہر ہر فرقہ کے عقیدے کے بارے میں وہ ایک نہیں ۲۱ بانہیں نکال سکتا ہے۔حیرت تو یہ ہے کہ پاکستان کی جمعیت العلماء بشمول اس کے صدر مولانا عبد الحامد صاحب قادری بدایونی کے سب کے سب احراریوں کی اس جماعت کے ہمنوا اور ہمخیال ہو گئے ہیں کہ جس کا منشا ہی مسلمانوں کی مرکز بیت کو توڑنا اور اس کی عصبیت کو نقصان پہنچانا ہے۔جس زمانہ میں ہندوستان میں مسلم لیگ کا دور شباب تھا اور اس کے لیڈران کانگرس سے مطالبہ پاکستان کے سلسلہ میں اُلجھے ہوئے تھے یہی جماعت احرار مسلم لیگ کا ساتھ دینے کی بجائے اس کے مخالف کیمپ میں تھی اور ہر طریقے سے مسلمانوں کے اس مطالبہ کو روندنے اور پامال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔یہی عطاء اللہ شاہ بخاری کہ جو آج اس تحریک کے ہیرو بنے ہوئے ہیں اپنی سوتیا نہ تقریروں اور اپنی دریدہ دہنیوں سے مسلم لیگی لیڈران کی ٹوپیاں اچھالنے نہیں لگے ہوئے تھے۔اور اب تشکیل پاکستان کے بعد انہوں نے اپنی گرم بازاری کے قیام اور اپنی قدیمی نفرت و عداوت کی آگ کو بجھانے کے لیے ہاں ایک ایسی شرمناک فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ میں کو کسی طریقے پر جائز وحق بجانب قرار نہیں دیا جا سکتا۔پاکستان کی نو مولود سلطنت کو یو نہی کیا کم انکار لاحق ہیں کہ جن میں سے بعض ایسے ہیں کہ جن پر ان کی زندگی اور موت کا سوال اٹکا ہوا ہے۔ایسی صورت میں اس قسم کا کوئی ایجی ٹیشن وہاں شروع کرنا اس کے ساتھ کسی پہلو سے دوستی کا مترادف نہیں ہو سکتا۔حکومت پاکستان اس وقت تک اس معاملے میں جس مضبوطی اور استقلال کے ساتھ اپنی پالیسی پر قائم ہے ، ده بہت زیادہ مسرت بخش ہے اور اُسے یقیناً اس معاملہ میں ایک اپنے بھی اپنی پالیسی سے نہ ہٹنا چاہیئے کالے نه بحوالہ ہفت روزه بدر رقادیان) ۱۴ار مارچ ۱۹۵۳ ۶ صف