تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 548 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 548

دبانے کے لیے حکومت کی طرف سے سخت تدابیر اختیار کی جاتی ہیں تو ان کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ عوام کے جذبات کی شدت اور بڑھ جاتی ہے۔حکومت پاکستان کا موجودہ ہیجان اور سحران کا مقابلہ بڑی ہوش مندی اور اعتدال کار کے ساتھ کرنا چاہیئے۔صرف طاقت کے استعمال ہی سے یہ سجران دور نہیں ہو سکتا۔ضرورت اس کی بھی ہے۔کہ تمام حالات اور واقعات کا بتجزیہ کیا جائے اور ان اسباب کی صحیح چھان بین کی جائے سنو موجودہ مذہبی منافرت کے باعث ہوئے۔ان شکایات کی تحقیق بھی بے لاگ طور پر کی جائے۔جو پاکستان کے احمدی فرقہ کے حکام اور آفیسران کی زیادتیوں کے متعلق ہیں۔جو شیلے عوام کو پر امن طور پر سمجھایا جائے کہ اسلام میں کے وہ نام لیوا ہیں۔دسیے رواداری کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن پاک میں صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ لا اکراہ فی الدین دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں۔ہر فرد کو یہ آزادی اسلام نے دی ہے۔کہ وہ نجات کے جس راستہ کو بہتر سمجھتا ہے۔اپنے لیے اختیار کہ ہے۔اسلام کی پوری تاریخ رواداری سے بھری ہوئی ہے۔اس کے ہوتے ہوئے ایک ایسے ملک میں جہاں ایک بڑی اسلامی اکثریت موجود ہے۔ایک کمزور اور اقلیت کے فرقے پر ایسے وحشیانہ مظالم کا ہونا ایک ایسا فعل ہے جس پر جتنا بھی اظہار نفرت کیا جائے کم ہے۔ہمیں احمدی عقائد کے حسن و قبح کے متعلق اس شذرے میں رائے زنی نہیں کرتی ہے۔نہ ہمیں اس پر بحث کرنا ہے۔کہ احمدی فرقہ دائرہ اسلام سے خارج ہے یا نہیں۔ہم میں حقیقت پر زور دینا چاہتے ہیں۔وہ یہ ہے کہ احمدی عقائد رکھنے والے حضرات کو یہ پورا حق ہے کہ وہ آزادی اور بے فکرمی کے ساتھ رہ کہ پاکستان میں محفوظ زندگی گزاریں۔اور کوئی قوت اور جماعت خواہ وہ ملک کی سب سے بڑی اکثریت ہی کیوں نہ ہو یہ حق نہیں رکھتی۔کہ وہ اس آزادی کو ان سے چھین سکیں۔اس کا اندازہ کرنا دشوار ہے۔کہ جو مختلف خبریں ان ہنگاموں کے متعلق پاکستان سے آرہی ہیں۔کہاں تک صحیح ہیں ؟ا لیکن میں حد تک بھی صحیح ہیں۔وہ کچھ کم افسوسناک نہیں۔عوام کے جذبات حبیب بے قالبہ ہو جاتے ہیں۔جنون کی خوفناک حد تک پہنچ جاتے ہیں۔خدا کہ سے کہ پاکستان کے جنون زدہ عوام کو ہوش آئے۔اور پاکستان سے جلد ان فتنوں کا سدباب ہو جائے۔جو پاکستان کی سالمیت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں اے (حاشیہ م ۵۲ پر )