تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 545
۵۴۳ اس موقع کیا ذرا بھی کمزوری کا اظہار کیا تو شورش پسندوں کے حوصلے بڑھ جائیں گے۔اور پھر تو پاکستان کا زیادہ عرصہ تک سلامت رہنا قطعی ناممکن ہو جائے گا لے اسی اخبار نے ہار مارچ 1903ء کی انشائیں بعنوان ” قادیانی اور پاکستان“ مندرجہ ذیل اداریہ لکھا :۔در قادیانیوں یا احمدیوں کے خلاف پاکستان کے ایک طبقے میں جو شورش گذشتہ کئی سال سے بر پا کر رکھی گئی ہے وہ روز بروز (زور) پکڑتی جا رہی ہے۔ابتداء اس میدان میں صرف احراری ہی پیش پیش نظر آرہے تھے اور اب تو جمعیت العلماء پاکستان نیوز پیرس ایڈیٹس کا نفرنس شریک ہو گئے ہیں اور یہ مطالبہ ان کی طرف سے انتہائی شد و مد کے ساتھ شروع کر دیا گیا ہے کہ ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان کو وزارت سے ہٹا دیا جائے۔قادیانیوں کو سرکاری طور پر ایک اقلیت والی قوم قرار دیا جائے۔یہ ایجی ٹیشن اس مرتبہ ان کل جماعتوں کے اشتراک عمل سے اس زور شور کے ساتھ اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان کی تازہ اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس سلسلہ میں روزانہ ہر ہر مقام پر متعدد گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور گرفتار شدگان کی مجموعی تعداد ہزار وں سے تجاوز ہو چکی ہے۔راست اقدام کے لیے جو مجلس حمل مقرر کی گئی تھی اس کے منگل اراکین گرفتار ہو چکے ہیں لیکن یہ شورش گھٹنے کا نام نہیں لیتی۔ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان پاکستانی افراد کی اس ذہنیت کی کیا تادیل کی جائے کہ جس سے ان کے اس طرز عمل کا کسی پہلو سے کوئی جوانہ نکل سکے۔سوچنے کی بات ہے کہ مسلمانوں میں ایک دو نہیں بہتر فرقے ہیں۔اگر ہر ہر فرقہ کے خلاف اسی قسم کا ایجی ٹیشن بر پا کر دیا جائے تو اس سے مسلمانوں کی عصبیت و مرکز بیت مجروح ہو گی یا نہیں ؟ اور اگر ہر فرقہ دائرہ اسلام سے یونہی نارج قرار دے دیا گیا تو پھر اسلام کے لوا برداروں کی تعداد کتنی کم ہو جائے گی ؟ مانا کہ ان کے عقائد عام اسلامی عقائد سے کسی قدر مختلف ہیں۔مانا کہ مرزا غلام احمد ساب " سه سجواله بدر قادیان ۱۴ر مارچ ۱۹۵۳ء ص ۹