تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 521 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 521

事 پسندیدگی حاصل ہے تو ہم اس اسلام کو جو کتاب وسنت میں پیش کیا گیا ہے اور جس میں ذہن ، قلب زبان اور اعضاء کو مسئولیت سے ڈرایا گیا ہے خیر باد کہنے کو تیار ہیں۔ہمارے نزدیک شاہ صاحب نے نہایت غلط سہارا لیا ہے اور مسلمانوں میں جو عقیدت رحمتہ اللعالمین بابی هو دائی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود ہے اس سے نہایت غلط قسم کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔اور پھر اس میں جب ہم مزید دیکھتے ہیں کہ وہ اس خواب سے مراد یہ لیتے ہیں کہ " تحفظ ختم نبوت' کے نام پر جو نظم (4) انہوں نے قائم کر رکھا ہے حضور خاتم النبیین روحی و نفسی خداہ اس تنظیم کی تائید فرما رہے ہیں تو ہماری روح لرز جاتی ہے۔اگر خدانخواستہ یہ نظم اور اس کے تخت متعین کردہ مبلغین کا کام اور اس کے نام پر حاصل کیے گئے صدقات ، زکوائیں۔اور چندے اس بری طرح صرف ہونے کے باوجود انہیں پیغمبر امین کی پسندیدگی حاصل ہے تو ناگز یہ ہے کہ ان تمام احادیث رسالت تاب کو خیر باد کہ دیا جائے جن میں آپ نے مسلمانوں کے مال کے احترام کی اہمیت بیان فرمائی ہے اور جن میں اموال المسلمین میں خیانت کو حرام اور موجب مزا بتلایا گیا ہے کہ دوسری طرف احرار رہنماؤں نے جماعت اسلامی کے امیر و بانی پر تحریک ختم نبوت سے غداری اور منافقت کے الزامات لگائے چنانچہ تاجدین صاحب انصاری نے بیان دیا کہ :۔۱۸ جنوری سے لیکر ۲۶ فروری تک مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب تحریک کا بغور مطالعہ کرتے رہے۔وہ یہ اندازہ لگا رہے تھے کہ اگر حکومت مسلمانوں کے مطالبات آخری وقت هاشیه بقیه مشاه : بیان تقریروں کا ایک نمونہ قاضی محمد اسلم صاحب سیف فاضل عربی کے الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے موصوف شاہ جی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں آپ نے متعدد بار متعدد مقامات پر اپنی تقریروں میں خواجہ ناظم الدین اور ملک غلام محمد مرحوم کو مخاطب کر کے فرمایا اسے خواجہ صاحب اور اسے ملک صاحب اگر تم میری یہ معمولی سی در خواست مان نوریعنی عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھاؤ تو میں اپنی اس سفید ریش سے تمہارے پاؤں صاف کروں گا یہ رسالہ تنظیم الحدیث لاہور ۲۹ ستمبر ۱۹۶۱ء مش ) لے ہفت روزہ المنیر و مار پا ۵ ست کالم ۲۱