تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 483 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 483

FAL لاہور کے معاصر آنرا د نے سوال اٹھایا ہے کہ جب صدر مملکت کے لیے مسلمان ہونا شرط ہے تو لفظ مسلمان کی آئینی تعریف بھی قانون میں شامل ہونی چاہیئے۔اور جبکہ رائے و مہند دل کو مسلمان اور نا مسلمان کے خانوں میں تقسیم کیا جارہا ہے ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسلمان کی تعریف اور بھی ضروری ہوگئی ہے۔اور یہ رائے دہندوں کی تقسیم بالکل بیکار ہو جائے گی اور فلاں فرقہ کو بھی وریہ کی مسلمانوں میں شامل کہہ لیا جائے گا۔(روز نامه آنداد - ۱۸ نومبر ۱۹۵۶) بیشک لفظ مسلمان کی تعریف ضرور شائع ہونی چاہیئے۔مگر اس کی تعریف علماء کرام ہی فرمائیں گئے تو ہو گی۔اس کے صرف دو طریقے ہو سکتے ہیں اول یہ کہ جس فرقہ کو اسلام سے خارج کرنا یا اسے کافر قرار دیتا ہوا سے پہلے سے ذہن میں محفوظ رکھیں اور پھر مسلمان کی کوئی ایسی تعریف نکالیں جس میں صرف وہی فرقے داخل ہو سکیں جن کو تعریف کرنے والے داخل کرنا چائیں۔مگر یہ طریقہ اختیارہ کرنے سے علماء کو بڑا تکلف کرنا ہو گا۔پہلے سے مسلمان کی تعریف کیے بغیر یہ فیصلہ کر لینا کہ فلاں فرقہ اسلام سے خارج ہے اور پھر اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کتاب وسنت کے ساتھ زور آزمائی کرنا بڑی محنت اور اور سامحقہ ہی بڑی بد دیانتی چاہتا ہے۔اگر ہر فرقہ نے دوسرے فرقہ کو اسلام سے نکالنے کے لیے لفظ مسلمان کی کوئی میں مانی تعریف کی تو کسی ایک تعریف پر بھی اتفاق نہ ہو سکے گا اور نتیجہ میں کوئی فرقہ بھی مسلمان ثابت نہ ہوگا۔لیجیے میدان صاف اور لفظ مسلمان کی تعریف معلق - روز روز کے جھگڑوں سے نجات اور مسلمان در گور و مسلمانی در کتاب۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کتاب وسنت کے الفاظ میں پہلے سے فیصلہ کیے بغیر ایمانداری سے سلمان کی تعریف تلاش کر لی جائے۔نہ تو زمین میں یہ ہو کہ فلاں فرقہ کو ضرور مسلمان ثابت کرنا ہے۔نہ یہ کہ فلاں فرقہ کو اسلام سے نکالنا ہے۔کتاب اللہ اور اقوال پیغمبر سے انہی کے الفاظ میں مسلمان کی تعریت اخذ کر لی جائے۔اور اس بات کی کوئی پروا نہ کی جائے کہ اس کی رو سے کون مسلمان اور کون کا فر قرار پاتا ہے۔جو فرقہ بھی اس تعریف میں آتا ہوا سے آنے دو اور جو اس سے نکلتا ہوا اسے نکل جانے دو نہ تو کسی کو زبر دستی داخل کرو اور نہ نہ بہ دستی نکالو۔اگر کوئی تعریف سب