تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 482
->> ہ فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت میں کھلم کھلا علماء کو خوار کرنے کا سامان ہو رہا تھا اور جب تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ شائع ہوئی تو ایک دنیا نے دیکھ لیا کہ اس میں علماء کی کیا گت بنائی گئی اور اس رپورٹ کی اشاعت پہ سب کو سانپ سونگھ گیا یا لے بھارت کے ایک سنی عالم کا مندرجہ ذیل مقالہ لکھنو کے رسالہ" صدتی جدید" میں 4 اور ۲۰ وسمہ ۱۹۵۷ء کی اشاعتوں میں اشاعت پذیر ہوا : - مسلمان کی تعریف" ایک غیر جانبدار ہندی مبصر کے قلم سے) یاد ہوگا کہ مغربی پاکستان میں جو ایجی ٹیشن قادیانیوں کے خلاف ہوا۔اس کا کیا نتیجہ نکلا بہ مارشل لاء لگا۔علماء جیل میں ڈالے گئے۔ایک تحقیقاتی عدالت قائم ہوئی جس میں بہت سے علماء اہل حدیث دیوبندی بریلوی - شیعہ ) نے شہادتیں دیں۔عدالت نے سب سے پوچھا کہ اسلام کی رو سے مسلم کی تعریف کیا ہے۔عمر بھر درس و تدریس اور فتویٰ دینے والے علماء اس سوال پر بہت چکرائے مشکل سے جواب دے سکے اور متضاد جوابات دے کر خود ایک دوسرے کی تکذیب کر بیٹھے۔کوئی ضروریات دین کی حد تک گیا ہے جو شخص ضروریات دین کو مانے وہ مسلمان ہے مگر دین کیا ہیں ؟ ان کی فہرست کوئی عالم پیش نہ کر سکا۔چند علماء نے یہ کہہ کر پیچھا چھڑایا کہ عدالت نے اس سوال پر غور کرنے کی مہلت نہیں دی۔گویا ساری مہر مسلمان کی تعریف سے بے نیاز اور غافل رہے اور غفلت میں لاکھوں بندگان خدا کو کافر بنا ڈالا۔حال ہی میں سنی شیعہ جھگڑے چلے جن میں جانوں کا اتلاف ہوا۔نہ معلوم آئندہ کیا ہو۔ہم ذیل میں لفظ مسلم ، کے سلسلہ میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں شاید اس سے پاکستان کے علماء کوئی فائدہ اٹھا سکیں اور انہیں لفظ مسلم کی تعریف کیلئے کچھ مواد مل جائے به روزنامه مالت لاہور ۱۲۱ جون ۹۵۵اء صلا