تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 481 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 481

۴۷۹ سا سلوک ہونے پر آپ کو کچھ اعتراض تو نہیں ہو گا۔پنجاب میں نہیں۔(۳) اگر پاکستان میں اس قسم کی اسلامی حکومت قائم ہو جائے تو کیا آپ مندروں کو اجازت دیں گے کہ وہ اپنا آئین اپنے مذہب کی بنیاد پر بنائیں۔جواب۔یقیناً بھارت میں اس قسم کی حکومت مسلمانوں سے سودوں اور ملیچھوں کا سا سلوک بھی کرے اور ان پر منو کے قوانین نافذہ کہ کے انہیں حقوق شہریت سے محروم اور حکومت میں حصہ لینے کے نا اہل قرار دے ڈالے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔یہ دو نو جوا بات آپ کو یقین آئے گا کہ کن کی زبان سے عطا ہوئے ہیں۔پہلا جواب صدر جمعیتہ العالم پاکستان ابو الحسنات مولانامحمد احمد قادری رضوی ربہ بلوی کا ہے اور دوسرا با نی دامیر جماعت اسلامی مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کا - انا لله ثم انا الله عمر ناؤ یہ کس نے ڈبوئی با خضر نے مسلمانان ہند کا بڑے سے بڑا دشمن بھی کیا اس سے بڑھ کر کوئی جواب دے سکتا تھا۔فریاد بجز مالک حقیقی اور کس سے کیجیے :۔کسی شہادت کے ساتھ تم کروڑ کلمہ گو ان کو سیاسی موت کا حکم سنایا جا رہا ہے، اور ان میں سے ایک جمعیتہ العلماء پاکستان کے صدر ہیں۔اور دوسرے جماعت اسلامی کے بانی و امیر نا۔اور مولانا مودودی کا یہ پہلا کریم مسلمانان ہند پر نہیں۔کئی سال ہوئے ایک اور فتومنی بھی تو کچھ اسی قسم کا دے چکے ہیں۔کہ ہندی مسلمانوں کے ساتھ رشتہ ازدواج جائز نہیں ! دہی مبند دستمان جس میں صرف رسمی اور نسلی مسلمان ہی نہیں۔ہزار ہا ہزار صالحین یعنی جماعت اسلامی کے ارکان بھی آباد ہیں۔جارحیت کی اس حد تک تو شاید خارجیت بھی اپنے دور اول میں نہیں پہنچی معتی (صدق جدید ۲۸ مئی ۱۹۵۳ - جماعت اسلامی کے راہنما مولانا سید ابوالا علی صاحب مودودی نے (ارجون 1902ء کو شیخوپورہ میں ایک سپاسنامے کے جواب میں کہا کہ : - له صدق جدید ۲۸ مئی ۱۹۵۴ء مسجداله الفرقان ربوہ جولائی ۱۹۵۳ ص ۴۸