تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 466 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 466

ماتحت منتخب کیا جاتا تھا جو زمانہ حاضر کے انتخاب سے قطعا مختلف تھا۔اور اس کی بنیاد نہ بالغوں کے حق رائے دہی پہ اور نہ عمومی نمائندگی کی کسی اور ہئیت پر تھی۔اس کی جو بیدت کی جاتی محتی جسے ملت اطاعت کہنا چاہیئے اُسے ایک مقدس معاہدہ کی حیثیت حاصل بھی اور جب وہ اجماع الامت یعنی لوگوں کے اتفاق آراء سے منتخب ہو جاتا تھا تو جائز حکومت کے تمام شعبوں کا سرچشمہ بن جاتا تھا۔اس کے بعد اس کو اور صرف اس کو حکومت کرنے کا حق ہوتا تھا وہ اپنے بعض اختیارات اپنے ناموں کو تفویض کر سکتا تھا۔اور اپنے گر دایسے اشخاص کے ایک گروہ کو جمع کر لیتا تھا جو علم و تقوی میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔اس گروہ کو مجلس شور مٹی یا اہل الحمل والعقد کہتے تھے۔اس نظام کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ کفارہ اُن وجوہ کے ماتحت جو واضح تھے اور جن کے بیان کی حاجت نہیں اس مجلس میں دخل حاصل نہیں کر سکتے تھے اور خلیفہ اپنے اختیارات گفتار کو بالکل تفویض نہ کر سکتا تھا۔خلیفہ حقیقی رئیس مملکت اور تمام اختیارات کا حامل ہوتا تھا اور زمانہ حاضر کی کسی جمہوری مملکت کے صدر کی طرح ایک بے اختیار فرونہ تھا جس کا فرمن صرف اتنا ہوتا ہے کہ اپنے وزیر اعظم اور کابینہ کے فیصلوں پر دستخط کردئے۔وہ غیر مسلموں کو اہم عہدوں پر مقرر نہ کر سکتا تھا نہ قانون کی تعبیر با تنفیذ میں ان کو کوئی جگہ دے سکتا تھا۔اور وضع قوانین کا کام ان کے سپرد کرنا تو قانونی اعتبار سے بالکل ہی ناممکن تھا۔جب صورت حال یہ ہے تو مملکت کو لازماً کوئی ایسا انتظام کرنا ہوگا کہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان فرق معنی ہو سکے اور اس کے تاریخ پر عمل درآمد کیا اور جاسکے لہذا یہ مسئلہ بنیاد من طور پہ اہم ہے کہ فلاں شخص مسلم ہے یا غیر مسلم کے سلے فاضل جج صاحبان نے اس نہیں منظر میں علماء سے کیا کیا سوالات کیے علماء نے ان کے کیا جواب ہے؟ اور فاضل جج ان کے افکار و نظریات کو سن کہ کسی نتیجے پر پہنچے ؟ اس کی تفصیل ہمیں مطبوعہ۔پورٹ کے درج ذیل الفاظ میں منی ہے۔ہم نے اکثر ممتا نہ علماء سے یہ سوال کیا۔کہ دہ مسلم کی تعریف کریں۔اس میں نکتہ یہ ہے کہ اگر شده رپورٹ تحقیقاتی عدالت ما ۲۳