تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 465 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 465

۴۶۳ " آج مسلمان یاد ماضی کا لبادہ اوڑھے۔تعدیوں کا بھاری بوجھ اپنی پشت پر لادے ، مایوس دمبہوت ایک دوراہے پر کھڑا ہے اور فیصلہ نہیں کر سکتا کہ دونوں میں سے کسی موڑ کا رخ کرے۔دین کی وہ تاندگی اور سادگی جس نے ایک زمانے میں اس کے ذہن کو عزم مصمم اور اس کے عضلات کو لچک عطا کی تھی آج اس کو حاصل نہیں ہے اس کے پاس : فتوحات حاصل کرنے کے وسائل ہیں نہ اہلیت ہے اور نہ ایسے مالک ہی موجود ہیں جن کو فتح کیا جا سکےمسلمان بالکل نہیں سمجھتا کہ جو تو میں آج اس کے خلاف صف آراء ہیں۔وہ ان قوتوں سے بالکل مختلف ہیں جن سے اس کو ابتدائے اسلام میں جنگ کرنی پڑی تھی اور اس کے اپنے آباء و اجداد ہی کی راہ نمائی سے ذہن انسانی نے ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں جن کے سمجھنے سے وہ قاصر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔صرف ایک ہی چیز ہے جو اسلام کو ایک مانیا را تصور کی حیثیت سے محفوظ رکھی سکتی ہے اور مسلمان کو جو آج صندو قدامت کا پیکر بنا ہوا ہے۔دنیا ئے حال اور دنیا ئے مستقبل کا شہری بنا سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی نئی تاویل و تشکیل دلیرانہ کی جائے جو زندہ حقائق کو مردہ تصورات سے الگ کر دے۔۔۔۔۔۔۔اگر ہم جہاں رہتی کی ضرورت ہے دہاں مہتھوڑا استعمال کرنا چاہیں گے اور اسلام سے ان عقد وں کے مل کرنے کی توقع رکھیں گے جن کومل کرنا اس کا بھی منصوریہ تھا مایوس نامرادی اور دل شکستگی برابر ہمارے شامل حال رہے گی۔وہ مقدس دین حبس کا نام اسلام ہے برابر زندہ رہے گا۔خواہ ہمارے لیڈر اس کو نافذ کرنے کے لیے موجود نہ بھی ہوں۔دین اسلام فرد ہیں۔اس کی روح اور اس کے نقطہ نگاہ ہیں اور مہد سے لحد تک خدا اور بندوں کے ساتھ تعلقات میں زندہ ہے اور زندہ رہے گا اور ہمارے ارباب سیاست کو خوب سمجھ لینا چاہیئے کہ اگر احکام اپنی ایک انسان کو مسلمان نہیں رکھ سکتے۔تو ان کے قوانین یہ کام انجام نہیں دے سکتے ہیں وسلم کی تعریف اور تحقیقاتی عدالت اب ہم تحقیقات عدالت کی بات اس حصہ کی طرف آتے پاور ہیں جو ہمارے نزدیک آئینی و مذہبی اعتبار سے سب سے اہم ہے۔اور وہ یہ کہ اسلامی ریاست میں مسلم کی تعریف کیا ہے ؛ فاضل جج لکھتے ہیں:۔جمہوریہ اسلامی کے دوران میں رئیس مملکت یعنی خلیفہ ایک ایسے نظام انتخاب کے ے رپورٹ تحقیقاتی عدادت صفحه ۲۵۰ / ۲۵۱