تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 467
مختلف فرقوں کے علماء احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے ذہن میں نہ صرف اس فیصلے کی وجوہ بالکل روشن ہوں گی۔بلکہ وہ مسلم کی تعریف بھی قطعی طور پر کر سکیں گے کیونکہ اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ فلاں شخص یا جماعت دائرہ اسلام سے خارج ہے۔تو اس سے لازم آتا ہے۔کہ دعوی کرنے والے کے ذہن میں اس امر کا واضح تصویہ موجود ہو کہ مسلم کس کو کہتے ہیں ؟ تحقیقات کے اس حصے کا نتیجہ با لکل اطمینان بخش نہیں نکلا۔اور اگر ایسے سادہ معاملے کے متعلق بھی ہمارے علماء کے دماغوں میں اس قدیر ژولیدگی موجود ہے۔تو آسانی سے تصور کیا جا سکتا ہے۔۔کہ زیادہ پیچیدہ معاملات کے متعلق ان کے اختلافات کا کیا حال ہوگا۔ذیل میں ہم مسلم کی تعریف ہر عالم کے اپنے الفاظ میں درج کر تے ہیں۔اس تعریف کا مطالبہ کرنے سے پہلے ہر گواہ کو واضح طور پر سمجھا دیا گیا تھا۔کہ آپ وہ قلیل سے قلیل شرایط بیان کھے جن کی تکمیل سے کسی شخص کو مسلم کہلانے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔اور یہ تعریفت اس اصول پر مبنی ہونی چاہیے جس کے مطابق گرائمر میں کسی اصطلاح کی تعریف کی جاتی ہے۔نتیجہ ملاحظہ ہو۔مولانا ابو الحسنات محمد احمد قادر می صدر جمعیت العلمائے پاکستان سوال :۔مسلم کی تعریف کیا ہے ؟ جواب: - اول وہ توحید الہی پر ایمان رکھتا ہو۔دوم و پیغمبر اسلام کو اور تمام انبیاء سابقین کو خدا کا سچا نبی مانتا ہو۔سوم - اس کا ایمان ہو کہ پیغمبر اسلام مسلم انبیاء میں آخری نبی ہیں (خاتم النبیین، چہارم اس کا ایمان ہو کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام پیغمبر اسلام مسلم پر نازل کیا۔پنجم دہ پیغمبر اسلام صلعم کی ہدایات کے واجب الاطاعت ہونے پر ایمان رکھتا ہوی ششم۔وہ قیامت پر ایمان رکھتا سوال :۔کیا تارک الصلواۃ مسلم ہوتا ہے ؟ جواب :۔جی ہاں۔لیکن منکر صلواۃ مسلم نہیں ہو سکتا۔مولانا احمد علی صدر جمعیتہ العلماء اسلام مغربی پاکستان۔سوال :۔از راہ کرم مسلم کی تعریف کیجئے۔جواب:- دو شخص مسلم ہے۔جو د) قرآن پر ایمان رکھتا ہو۔اور (۲) رسول اللہ صلعم کے ارشادات پر ایمان رکھتا ہو۔ہر شخص جو ان دو شرطوں کو پورا کرتا ہے مسلم کہلانے کا حقدار ہے۔اور اس کے لیے