تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 464 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 464

ہونا چاہیئے تو عدالت نے سوال کیا۔سوال انه اگر من دوستانی مملکت درمی بنیاد پر قائم کر دی جائے اور وہ اپنے مسلم باشندوں کو تبلیغ مذہب کے حق سے محروم کردے تو کیا ہوگا ؟ جواب : - اگر مہند وستان کوئی ایسا قانون وضع کرے گا تو چونکہ میں تحریک توسیع پر ایمان رکھتا ہوں۔اس لیے ہندوستان پر حملہ کر کے اس کو فتح کر لوں گا۔اس پر عدالت نے یہ ریمارک لکھا ہے :۔گر یا مذہبی وجوہ کی بناء پر امتیازی سلوک کی باہم مساوات کا یہ جواب ہے یا پھر فاضل ججوں نے اپنی رائے ان الفاظ میں ظاہر کی ہے۔ہمارے سامنے جس نظریے کی حمایت کی گئی ہے۔اس کو اگر مہندوستان کے مسلمان اختیار کر لیں تو وہ مملکت کے سرکاری عہدوں سے کا ملا محروم ہو جائیں گے اور صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی ان کا یہی حشر ہو گا جہاں غیر مسلم حکومتیں قائم ہیں مسلمان ہر جگہ دائمی طور پر مشتبہ ہو جائیں گے۔اور فوج میں بھرتی نہ کیے جائیں گے۔کیونکہ اس نظریہ کے مطابق کسی مسلم ملک اور کسی غیر مسلم ملک کے درمیان جنگ ہونے کی صورت میں غیر مسلم ملک کے مسلم سپاہیوں کے لیے " کوئی چارہ نہیں کہ یا تو مسلم ملک کا ساتھ دیں یا اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں کے سلے فاضل ججوں کو نہایت افسوس سے ان کے دائرہ نگاہ کی تنگی کا ذکر کرتے ہوئے یہ لکھنا پڑا :- علماء نے ہم سے صاف صاف کہ دیا ہے (اور یہ کہتے ہوئے انہوں نے آنسو بہانا تو ایک طرف رہا آنکھ تک نہیں چھپکی کہ جب تک ہمارے خاص نمونے کا اسلام یہاں رائج ہے۔ہم کو اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کہ دوسرے ممالک کے مسلمانوں کا کیا حشر ہو گا صرف ایک مثال مسن لیجیے۔" امیر شریعت نے کہا " باقی ۶۴ کروٹریہ عدد ان کا اپنا ہے ) کو اپنی تقدیر کا فیصد خود کرنا چاہیے۔۔لہذا جن لوگوں کو صرف یہیں کی کھیتیوں کی نہیں بلکہ چین اور پیرو کی فصلوں کی دیکھ بھال کرنی ہے ان کے لیے اشد ضروری ہے کہ تمام اطراف کے مفادات کا خیال رکھیں 4 سے پھر فاضل ججوں نے اپنی رائے ظاہر کی ہے۔له به پورت تحقیقاتی عدالت م ۲۴۶ م ۲۳ رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص۳۲۲