تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 36 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 36

فصل دوم ضلع گوجرانوالہ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں لکھا ہے :۔۲ مارچ کو دس بجے ڈپٹی کشنر کے کرہ عدالت میں سرکاری اور غیر سر کار می آدمیوں کا ایک اجلاس ہوا بسٹی مسلم لیگ کے عہدیداروں نے اس اجلاس میں موقع پاکر لیگ کے اندر اپنے مخالفین کی مذمت کی۔اور حکام ضلع کے ساتھ سرگرم تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔اس مرطے پر لا ہو رہ جانے والی ٹرینوں کو ان ہجوموں نے روکنا شروع کیا جو لاہور جانے والے رضا کاروں کی مشایعت کے لیے ریلوے اسٹیشن پر جمع ہو جاتے تھے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پولیس کا ایک دستہ ساتھ لے کر ریلوے سٹیشن پر گئے۔اور انہوں نے پچاس رضا کاروں کے ایک دستے کو ٹرین سے اتار کر گر فتار کر لیا۔اس پر ہجوم میں جوش پھیل گیا اور اس نے دو دفعہ ٹرین کو روکا۔جب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ٹرین کو روانہ کر دینے کی دوسری کوشش کی تو ان پر حملہ کیا گیا جس سے وہ اور چار پولیس میں نہ خمی ہو گئے۔جن میں ایک سب انسپکٹر بھی تھا۔اسی دن شام کو پانچ ہزار کے ایک جوش میں بھرے ہوئے ہجوم نے ریلوے اسٹیشن سے کچھ فاصلے پر سندھ ایکسپرس کو روک لیا۔سپرنٹنڈنٹ پولیس مجھے پیادہ کانسٹیبلوں کو ساتھ لے کہ اس مقام پر پہنچے لیکن ان پر اینٹوں اور پتھروں کی بوچھاڑ کی گئی۔چونکہ اس وقت اندھیرا ہو چکا تھا ،اور اگر ہجوم منتشر نہ ہوتا تو تشدد پر اتر آتا۔اور ٹرین کے مسافروں کی پریشانی کا باعث ہوتا۔اس لیے سپر نٹنڈنٹ پولیس نے تین پیادہ کانسٹیبلوں کو حکم دیا کہ بارہ راؤنڈ ہوا میں چلائیں۔اس سے ہجوم منتشر ہو گیا اور کسی قسم کا جانی نقصات نہ ہوا۔اس کے بعد معززین شہر کا ایک اجلاس ریلوے اسٹیشن پر طلب کیا گیا۔اگر چہ سه ضلع گوبر افوالله مزاقل)