تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 35 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 35

۳۵ کر لوٹا اور مارنا چاہتا تھا جیسا کہ ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ ہمارے متعلق یہ کیم طے پاگئی تھی کہ کچھ چھت پر سے آئیں گے اور کچھ دروازے توڑ کر اندر گھس آئیں گے اور نعوذ باللہ ہماری مستورات کو جبراً لے جائیں گے اور مجھے اور میرے بھتیجے ارشاد محمد اور بھائی غلام احمد کو قتل کر کے سامان کو لوٹیں گے اور بعد میں مکان کو آ لگا دیں گے مگر خداوند کریم نے ہم پر اپنا فضل و کرم کیا کہ وہ اپنی سکیم میں کیا ب نہ ہو سکے۔جس وقت ہو ہم پر یورش کر رہا تھا تو میری بیوی زیب النساء بیگم نے کمال جرات اور بہادری اور بلند حوصلگی سے ان کو ل کا ر اور کہا گیا یہی اسلام ہے کہ تم لوگوں کو لوٹتے اور مارتے پھرتے ہو انہوں نے پتھر پھینکنے شروع کیے۔اس پر میری بیوی اور بھانجی مریم سلمانے اُن پر پھر اوپر سے پھینکے تاکہ وہ ایسا ہو جائیں چنانچہ جب ہمارے چھت پر سے اینٹوں کی جوابی بوچھاڑ ہوئی وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔اسی رات میبکہ ہم پر دوبارہ حملہ ہو چکا تھا میرے ایک غیر احمد می عزیز محمد مقبول شاہ صاحب جو نور آرٹ پر لیس کے مینجر تھے ہمارے متعلق اطلاع پا کہ دریافت حال کے لیے آئے اور صرف دس بارہ منٹ ہمارے ہاں بیٹھے رہے اور پانی کا ایک گلاس بھی پیا اور جب باہر گئے تو ابھی تین چار فرلانگ بھی نہ گزرے تھے کہ ایک ٹولی نے انہیں مجھے سمجھ کر رکہ یہی گا سکا ہے، چھرے مار مار کر شدید زخمی کر دیا اور کپڑے بھی اُتار لیے اور نقدی بھی ہتھیا لی۔اس کے ایک روز بعد وہ میونسپل ہسپتال میں فوت ہو گئے۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ - حالانکہ مرحوم نے ان کو بار بار کہا بھی کہ وہ " مرزانی" نہیں ہیں مگر انہوں نے ایک نہ سنی۔افسوس کہ ہم میں سے کوئی بھی اُن کو نہ دیکھ سکا۔یہ بھی فیصلہ ہو چکا تھا کہ جمعہ کے رو زدہ ہمارے معاملہ میں کامیاب نہ ہو سکے تو سنیچر (ہفتہ) کو میری بار حملہ کر کے وہ ہمیں ختم کر دیں گے لیکن ہم ساری رات عجز و انکسار کے ساتھ دعاؤں میں لگے رہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان کر دیا کہ ہم وہاں سے بیچ نکلے اور کرنل عطاء اللہ کے ہاں ملڑی کے ذریعہ پہنچائے گئے جس کا نہیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔کرنل صاحب کے ہاں سوا مہینہ مقیم رہے۔