تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 37
ان میں سے ہر ایک اس غنڈے پن کی مذمت کر رہا تھا لیکن کسی قسم کی عملی امداد کرنے پر آمادہ نہ تھا۔کہ مبادا وہ کافر یا مرزائی قرار دیا جائے۔چونکہ مجلس عمل کے عہدیداروں نے مجلس عمل کی حمایت کا عہد کر رکھا تھا اس لیے مجلس عمل کے ڈاکٹر نے مٹر منظور حسن ایم ایل اسے سیکر ڈی سٹی مسلم لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک دستے کی قیادت کر کے اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کریں۔لیگ کے صدر شیخ آفتاب احمد نے تجویز کی کہ شیخ منظور حسن کی فرمتی اور بناوٹی گرفتاری کا انتظام کیا جائے تاکہ یہ نہ سمجھا جائے کہ تحریک کو لیگ کی حمایت حاصل ہے۔اس پر اتفاق ہو گیا۔شیخ منظور حسن گرفتار کیے گئے۔اور انہیں پولیس کی ایک جیپ میں بٹھا کر ضلع کے ایک دور دست گوشے میں اُتار دیا گیا۔اور کہا گیا کہ وہ چند روز تک گوجرانوالہ واپس نہ آئیں لیکن لوگ اس چال کو سمجھ گئے۔اور دوسرے دن کوئی دو سو آدمی شیخ آفتاب احمد کے مکان پر پہنچے اور ان سے کہنے لگے کہ ایک جلوس میں شامل ہوں۔وہ زیبہ دستی ایک مکان سے باہر نکالے گئے اور اُن کو ایک جلوس کے ساتھ چلنے پر مجبور کیا گیا۔جو مسجد شیرانوالہ باغ کو جا رہا تھا۔اس وقت تک مسٹر منظور حسن گوجرانوالہ واپس آچکے تھے اور مسجد شیرانوالہ باغ میں پہنچ کر شورش پسندوں میں شامل ہو چکے تھے۔انہوں نے احمدیوں اور حکومت کے خلاف کئی تقریریں کیں۔اور سات مسلم لیگ کو نسلروں کو ساتھ لے کر ایک جلوس کی قیادت کی۔یہ سب لوگ گرفتار کر لیے گئے۔چیف منسٹر کا بیان مورخہ 4 مارچ لاہور کی ہدایات کے مطابق شہر بھر میں نشر کر دیا گیا۔سپر نٹنڈنٹ پولیس کو اطلاع ملی کہ ، مارچ کو احمدیوں کے جال دمال پر حملوں کا خطرہ ہے۔اس صورت حالات پر فوج سے گفتگو کی گئی۔فوج نے تجویز کی کہ دفعہ ۱۴۴ کے ماتحت عام جلسے اور جلوس ممنوع قرار دیئے جائیں۔لیکن سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ڈپٹی کشن نے اس تجویز کو قبول نہ کیا اور اس کی بجائے فیصلہ کیا کہ فوج اور پولیس کو شہر میں گشت کریں۔اس کے بعد شہر میں لا قانونی کے کسی واقعہ کی اطلاع نہیں آئی۔سوائے اس کے کہ ایک احمدی کی دکان لوٹنے کی کوشش کی گئی۔مارچ کو موضع نند پور میں شورش پسندوں کے ایک پُر غیظ ہجوم نے ایک شخص