تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 431
۴۲۹ جواب: - جیا نہیں۔سوال: - 201ء میں جب آپ پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے امریکہ گئے تھے توکیا آپ نے احد یہ جماعت کی شائع کہ وہ تفسیر قرآن مجید کا ایک نسخہ صدر ٹرومین کو پیش کی تھی۔جواب :۔میں ان دنوں واشنگٹن میں تھا۔جب صدر ٹرومین نے قوم کے نام ایک پیام دیا تھا۔اس کے دوسرے دن ٹرومین سے میری ملاقات ہونے والی معتی چنانچہ اس ملاقات میں میں نے ان کی تقریبہ پر کچھ تبصرہ کیا اور ایک در اصول کے بارے میں جن کی انہوں نے مکالت کی تھی میں نے کہا کہ اس سلسلے میں قرآن مجید کی کچھ آئمیں یاد آگئی ہیں میں نے انگریزی میں انہیں وہ آنتیں سنا بھی دیں۔صدر ٹرومین نے کہا کہ انہیں اس سے بڑی دلچسپی ہے اور وہ قرآن مجید میں یہ آئیں دیکھنا چاہتے ہیں۔چنانچہ میں نے دوسرے دن قرآن مجید کے انگریزی ترجمے کی ایک جلد انہیں بھیجوا دی۔یہ جلد جو جماعت (احمدیہ) کی شائع کہ وہ معنی میں نے واشنگٹن ہی سے حاصل کی تھی۔سوال: - روزنامہ زمیندارہ میں جو چٹھیاں شائع ہوئی ہیں ان پر اپنے پتہ میں آپ نے اپنے نام کے ساتھ "سمر" کے خطاب کا استعمال کیا ہے ؟ جواب :- ڈاک کی تقسیم میں سہولت کے لیے ایسا کیا گیا تھا۔سوال: کیا سردار عبد الرب نشتر نے کا بینہ کے ایک اجلاس میں جو اگست ۱۹۵۲ء میں منعقد ہوا اور جس کی صدارت آپ نے کی۔آپ کو یہ کہا تھا کہ آپ کی جماعت ایک ایسی جماعت ہے جس کے متعلق مذہبی تبلیغ کی شکایات موصول ہو رہی ہیں ؟ جواب :۔جب میں کابینہ کے اجلاس میں پہنچا تو ایک سیکرٹری نے مجھے بتایا کہ خواجہ ناظم الدین معیل ہیں اور وہ اجلاس میں شرکت نہ کر سکیں گے۔انہوں نے مجھے ایک مشورہ دیا اور کہا خواجہ صاحب چاہتے ہیں کہ اسے کابینہ کے اجلاس میں مسودہ پیش کر کے منظور کرایا جائے میں نے اُسے پڑھا اس میں صرف ایک فرقہ کا ذکرہ تھا اور وہ احمدی فرقہ تھا۔یہ اس لحاظ سے غیر منصفانہ منتھا کیونکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں۔اس پر سردار عبدالرب نشتر نے فرمایا کہ اعلان میں یہ دریا نہیں لیکن اس قسم کی شکائتیں موصول ہوئی ہیں۔میں نے اس پر جواب دیا کہ جہانتک شکایت کا تعلق ہے یہ صرف ایک فرقہ کے خلاف ہے انہوں نے فرمایا کہ اگر کسی اور فرقہ کے متعلق اس قسم کی شکایت ہو تو ہم اس میں زمیم کرتے