تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 430 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 430

۴۳۸ مشرقی پنجاب میں ہوناک قسم کے فسادات شرر نا ہونے اور مسلمانوں پر ظلم ستم توڑے گئے۔قادیان کئی سال سے میرا گھر تھا۔اس پر بھی حملہ کیا گیا۔میرا گھر لوٹ لیا گیا۔میری عدم موجودگی میں میری ایک ہی بہن کا انتقال ہو گیا۔مجھ سے چھوٹا بھائی تپ دق کا شکار ہورہا تھا۔یہ سب باتیں تھیں جن کی بناء پر مجھے جلد آنا تھا۔حب سے میں نواب مجود پال کا ملازم ہوا تھا میں نے اپنے وقت کا کافی حصہ پاکستان کے مفاد کے لیے وقف کیا۔پہلے سرحدی کمیشن میں کام کیا۔اس کے بعد اقوام متحدہ کی اسمبلی میں میں پاکستان کی نمائندگی کرتا رہا۔بھوپالی میں میں نے بہت کم وقت صرف کیا۔جب عرب ڈیلی گیٹوں نے مجھ سے یہ کہا کہ میں کچھ دیر اور قیام کروں تو میں نے نواب مجبو پال اور قادیان کی صورت حالات پر پوری روشنی ڈالی۔انہوں نے یہ تجویز کی کہ وہ نواب مجھو پال اور صدر انجمن احمدیہ سے درخواست کریں۔وہ مجھے وہاں رہنے کی ہدایت کریں چنانچہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر انہوں نے ان دو اصحاب سے اجازت حاصل کر لی تو کیا میں ٹھٹروں گا ؟ میں نے کہا میں غور کروں گا چنانچہ انہوں نے نواب بھوپال اور صدر انجمین احمدیہ کو تار ارسال کیے۔ان دونوں نے یہ ہدایت ناکہ میں جلسہ کے اختتام تک وہاں رہوں چنانچہ میں وہاں رہا۔جب میں واپس پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا بھائی موت کے دروازے پر ہے میں کچھ کر سکا تو اتنا کہ اس کا ہاتھ دبا کر اسے ہمیشہ کے لیے الوداع کہی۔۔میرے نزدیک سوال یہ ہے کہ میں نے نواب مجھو پال اور صدر انجمن احمدیہ کی بجائے کیوں نہ پاکستان گورنمنٹ سے مشورہ لینے کے لیے کہا اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا میں پہلے کہ چکا ہوں میں نواب مجبو پال کا ملازم تھا اور میری سرکاری ڈیوٹی وہاں لگائی گئی تھی۔میرا خا ندانی مفاد قادیان میں تھا اور اُسے شدید نقصان پہنچا۔سوال : - کیا آپ نے عرب ڈیلی گیٹوں کو کہا تھا کہ جب وہ صدر انجمن احمدیہ کو تار دیں تو لفظ " امیر المومنین لکھیں۔جواب : - جی نہیں ہو سکتا ہے کہ میں نے گفتگو کے دوران میں اپنے طور پر یہ الفاظ استعمال کیسے ہوں۔سوال :۔کیاآپ انہیں یہ بتانا چاہتے تھے کہ پاکستان جیسے اسلامی مک میں واقعی ایک امیر المومنین ہو؟