تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 25
۲۵ زبر دستی اُن میں گھس گئے۔اور انہوں نے مختلف اشیاء کو لوٹنے جلانے اور تباہ کرنے کی کوشش کی۔ایک غیر احمدی نوجوان نور آرٹ پریس میں ملازم تھا۔اس کو احمدی سمجھ کر چھڑا مارا گیا اور وہ اسی زخم کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔جب صورت حالات سخنت خطر ناک ہو گئی تو ، رما نہ چ کو فوج طلب کر لی گئی اٹ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں راولپنڈی کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے۔یہ واقعات کا اجمالی تذکرہ ہے۔ذیل میں اس کی کسی قدر تفصیل بعض چشم دید بیانات کی یہ دشمنی میں دمی جاتی ہے۔بہت احمدیه را ولپنڈی قائد مجلس خدام الاحمدیہ راولپنڈی چو ہدری عبدالغنی رشد کی حساب بیت احمد یہ رواقع مری روڈ حال شاہراہ رضا شاہ پہلوی) کے سامنے ایک چھت پڑھتے تھے آپ ایک بیان میں لیاقت باغ کے جلسہ کی انتہائی اشتعال انگیز تقریروں کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ : - اتنے میں گولڑہ کا قافلہ جلسہ گاہ کے قریب پہنچ چکا تھا۔عوام اس کی طرف بھاگے۔اور پھر جلوس کی شکل میں یہ قافلہ مری روڈ کی طرف چلا۔اس کی راہنمائی۔۔۔۔- کر رہا تھا۔یہ جلوس نهایت اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا۔جب یہ جلوس بیت انجمن احمدیہ (واقع مری روڈ۔راولپنڈی۔ناقل) کے قریب پہنچا تو وہاں آکر رک گیا اور نعرے لگانے شروع کر دیئے۔دو آدمیوں نے جلوس کو آگے بڑھانے کی کوشش کی مگر جلوس زیادہ مشتعل ہو گیا اتنے میں قرب جوار کے مکانوں سے بہت احمدیہ پر سنگباری شروع ہو گئی اور جلوس نے بھی پتھروں کے ذریعہ بیت احمدیہ کے دروازے توڑنے شروع کیے۔جب دروازہ ٹوٹ گیا تو کچھ لوگ اندر گھس گئے اور اندر سے اخبارات اٹھا لائے۔کچھ لوگ اتنے میں باہر سے آکر اوپر گیلیری میں چڑھ گئے اور اس عرصہ میں بہت کے سامنے ایک معزز غیر احمدی کی کا نہ تھی۔اس کو کسی شخص نے چلا کر موڑا کہ ایک لڑکے نے اینٹ ماری اور بہت سے لوگ اس پر پل پڑے اور کا ر کے رپورٹ تحقیقاتی عدالت اردو مت نے ولادت ۱۹۲۰ء وفات ۲۳ نومبر ۶۱۹۷۶