تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 24 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 24

۲۴ فصل اوّل راولپنڈی شہر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں راولپنڈی شہر کے متعلق لکھا ہے کہ : یہاں بھی فسادات کے آغانہ سے پیشتر واقعات کی رفتانہ بالکل صوبے کے دوسرے قصبوں ہی کی مانند تھی۔۔۔۔۔۔آل پارٹیز مسلم کنونشن کے بعد احراری دوسر ے مذہبی فرقوں کے مبلغوں اور پیروں کا تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مساجد احمدیوں کے خلات پراپیگینڈا کا مرکز بن گئیں اور جمعہ کے خطبات تو احمدی عقائد کی مذمت د مخالفت کے لیے وقف ہی کر دیئے گئے کیا لے پھر لکھا ہے :- جب 4 مارچ کو سیالکوٹ اور لاہور کے واقعات کے متعلق مبالغہ آمیز افواہیں جھیلیں اور یہ اطلاع موصول ہوئی کہ حکومت پنجاب نے مطالبات منظور کر لیے ہیں اور کراچی کو اس منظور می کی اطلاع دے دی ہے تو صورت حالات بے حد نازک ہوگئی۔نوری نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے خیال کیا حکومت نے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔چنانچہ جلوس زیادہ جارحانہ ہو گئے اُن کی تعداد بھی بڑھ گئی اور ان کو ٹا بھی چارج سے منتشر کرنا پڑا۔ور مارچ کو لیاقت باغ میں ایک اور جلسہ منعقد ہوا۔ایک ہجوم نے جلسے کے بعد منتشر ہو کر مری روڈ کا رخ کیا اور احمدیوں کی ایک مسجد اور ایک چھوٹی موٹر کار کو آگنگا دی۔اسی شام کو کچھ دیر بعد لوٹ مار اور آتش زنی کے مزید واقعات بھی رونما ہوئے۔احمدیہ کمرشل کالج، فور آرٹ پر لیس اور پاک ریسٹوران شہر کے مختلف حصوں میں واقع تھے۔لیکن لوگ رپورٹ تحقیقاتی عدالت مش-۱۸۳ مقرر که دو زیر پنجاب ایکٹ ۱۹۵۷۲، برائے تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ ۶ اردو۔مطبوعہ انصاف پریس لاہور۔