تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 331
۳۳۰ (ج)) ما اكفر رجل رجلا قط الاباء بها احدهما۔ر ابن حبان فی محمد بحوالہ جامع الصغیر مصنفہ حضرت امام سیوطی مطبوعہ مصر جلد ۱۳۳۲) یعنی دو (مسلمان) آدمیوں میں سے ایک آدمی اگر دوسرے کو کافر قرار دے تو لازمی ہے کہ ان میں سے ایک ضرورہ کافر ہو جائے گا۔غرضیکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی طرف سے اس قسم کے فتوں میں کبھی ابتداء نہیں ہوئی چنا نچہ آپ فرماتے ہیں کہ : - پھر اس جھوٹ کو تو دیکھو کہ ہمارے ذمہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے ہمیں کروڑ مسلمانوں اور کلمہ گویوں کو کافر ٹھرایا حالانکہ ہماری طرف سے تکفیر میں کوئی سبقت نہیں ہوئی خود ہی ان کے علما د نے ہم پر کفر کے فتوے لکھے اور تمام پنجاب اور ہندوستان میں شور ڈالا کہ یہ لوگ کافر ہیں اور نادان لوگ ان فتووں سے ایسے ہم سے متنفر ہو گئے کہ ہم سے سیدھے منہ سے کوئی نرم بات کرنا بھی ان کے نزدیک گناہ ہوگیا کیا کوئی مولوی یا کوئی اور مخالف یا کوئی سجادہ نشین یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ پہلے ہم نے ان لوگوں کو کافر ٹھہرایا تھا ؟ اگر کوئی ایسا کاغذ یا کوئی اشتہار یا رسالہ ہماری طرف سے ان لوگوں کے فتومی کفر سے پہلے شائع ہوا ہے میں میں ہم نے مخالف مسلمانوں کو کا فر ٹھہرایا سے تو رہ پیش کریں۔دور نہ خود سو پر نہیں کہ یہ کس قدر خیانت ہے کہ کافر تو مظہر ائیں آپ اور پھر تم پر یہ الزام لگا میں کہ گو یا ہم نے تمام کمانوں کو کافر ٹھہرایا ہے اس قدر خیانت اور جھوٹ اور خلاف واقعہ تہمت کسی قدر ولا زا ر ہے ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے اور پھر جبکہ ہمیں اپنے فتووں کے ذریعہ سے کا فر ٹھہرا چکے اور آپ ہی اس بات کے قائل بھی ہو گئے کہ جو شخص مسلمان کو کافر کے نوکفر الٹ کر اس پر پڑتا ہے۔تو اس صورت میں کیا ہمارا حق نہ تھا کہ مو جب انہی کے اقرار کے ہم ان کو کافر کہتے (حقیقة الوحی مطبوعه 2 من ۱۲۱ پھر اس بات کے ثبوت میں کہ فتوی کفر کی ابتداء علماء کی طرف سے ہوئی نہ کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے ذیل کے چند فتوے بطور مثال درج ہیں۔ی مولوی عبدالحق صاحب غزنوبی رو مولا ا وا او غزنوی صاحب کے علم بزرگوار تھے) نے لکھا ہے کہ: و اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی کا مز ہے چھپا مرتد ہے گمراہ ہے گمراہ کنندہ - محمد ہے۔دجال ہے وسوسہ ڈالنے والا۔وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والا " رفتو نے علماء ہند و پنجاب اشاعت السہ جلد