تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 332
اس قسم کا فتویٰ پنجاب و مہند کے قریباً دوصد مولویوں سے لے کر شائع کیا گیا۔(ب) اس فتوے سے بھی کئی سال پہلے علمائے لدھیانہ نے ۸ء میں تکفیر کا مندرجہ ذیل فتویٰ صادر کیا۔حسن کا ذکر قاضی فضل احمد صاحب کورٹ انسپکٹر لدھیانہ نے اپنی کتاب کلہ فضل رحمانی مطبوعہ دہلی پین پر لیں لامور اللہ مہ م ) میں کیا ہے ۱۲ توار باہمی تکفیر کے بارے میں علماء کے چند فتوے درج ذیل ہیں : - من انكر امامة ابى بكر الصديق فهو كافر وكذلك من انكر خلافة عمر رفتاوی عالمگیر به جلد ۲ ص ۲۸۳ مطبع مجید کانپور ) به یعنی جو شخص حضرت ابوبکر صدیق کی امامت اور حضرت عمر کی خلافت کا انکار کرے وہ کافر ہے۔اسی طرح جماعت اسلامی کے امیر مولانا ابوالاعلی صاحب مودودی نے بے علم و بے عمل مسلمان کو میں کا علم و عمل کا فر جیسا ہو اور وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو کا فر ہی قرار دیا ہے اور اس کا حشر بھی کافرون والا بتایا ہے یعنی اس کو سنجات سے محروم اور قابل مواخذہ قرار دیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔ر ہر شخص ہو مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا ہے جس کا نام مسلمان کا سا ہے جو مسلمانوں کے سے کپڑے پہنتا ہے اور جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہے بلکہ مسلمان در حقیقت وہ شخص ہے جو اسلام کو جانتا ہو اور پھر جان بوجھ کر اسکو مانتا ہو ایک کافر اور ایک مسلمان میں اصل فرق نام کا نہیں کہ وہ رام پر شاد ہے اور یہ عبد اللہ ہے اس لیے وہ کا فر ہے اور یہ مسلمان (خطبات مودودی ملت) اسی طرح دوسرے مسلمان فرقوں کے علماء ایک دوسرے کو کافر اور جہنمی کہتے ہیں شیعہ اثنا عشریہ کے متعلق علماء المسنت والجماعت اور علماء دیوبند متفقہ طور پر مندرجہ ذیل فتوی صادر کرتے ہیں:۔مہ شیعہ اثنا عشریہ قطعاً خارج از اسلام میں شیعوں کے ساتھ مناکحت قطعاً ناجائز اور ان کا ذبیمه ترام۔ان کا چندہ مسجد میں دینا ناروا ہے۔ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا جائز نہیں ، رفتو ی شائع کرده مولوی عبدالشکور صاحب مدیر النجم مکھتی (نوٹ:۔اس فتویٰ میں دیگر علماء کے علاوہ دیوبند کی تصدیق بھی شامل ہے جس کی شہادت مولانا محمد شفیع صاحب مفتی دیو بند سے لی جاسکتی ہے۔مندرجہ بالا فتوی کی عبارت سے خالص مذہبی اختلافات ہی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ شیعہ فرقہ کے خلاف شدید