تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 330 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 330

۳۲۹ نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مامور من اللہ کے انکار کے ہرگز یہ معنے نہیں ہوں گے کہ ایسے لوگ اللہ تعالے اور رسول کریم صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کے منکر ہو کہ امت محمدیہ سے خارج ہیں یا یہ کہ مسلمانوں کے معاشرہ سے خارج کر دیئے گئے ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں :۔اول ایک یہ کفر کر ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔روم : دوسرے یہ کفر کہ مثلا و مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اسکو با وجود اتمام محبت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارہ میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے کیا رحقیقة الوحی ص ۷ ۱ مطبوعہ ۱۹) ی بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ اس قسم کے فتووں میں بھی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ یا آپ کی جماعت کی طرف سے ابتداء نہیں ہوئی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر احمدی علماء نے اپنے فتووں میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو آپ کے ابتدائے دعوے سال ۱۸۹۰ء سے ہی نہ صرف کافر قرار دیا بلکہ مرندہ زندیق الحمد ابلیس کہ درقبال - کذاب، وغیرہ الفاظ بھی استعمال کئے اور اس قسم کے اور بہت سے گندے ناموں سے آپ کو یاد کیا گیا۔اس قسم کے فقرے لکھے گئے اور کتابیں چھاپی گئیں اشتہارات پمفلٹوں کے ذریعہ سے ان فتووں کو لوگوں میں پھیلا دیا گیا اور ظاہر ہے کہ جو شخص کسی پر اس طرح پہلے حملہ کرتا ہے وہ پھر اس قسم کے جواب کا مستحق بھی ہو جاتا ہے اور اس صورت میں اسے اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے، دوسرے کو الزام دینے کا اسے کوئی حق نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : - (1) ایمار جل قال لاخي كافر فقد باء بها احدهما - (ترنزی کتاب الایمان متا) (ب) اذا كفر احدكم أخاه فقر باء بها احدهما (صحیح مسلم سمحواله كنوز الحقائق للمنادى مطبوعہ مصریہ حاشیہ جامع الصغیر جلد ا صت) یعنی جو شخص اپنے بھائی کو کافر کے تو ان میں سے ایک مزدور کا فر ہوگا اگر وہ شخص ہے کافر کہا گیا ہے کافر نہیں ہے تو کہنے والا کافر ہو گا۔