تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 329
۳۲۸ بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے یہ اسلام جو ہم نے اختیار کر رکھا ہے کیا یہی اسلام ہے جو نبی نے سکھایا تھا یہ کیا ہماری رفتار، گفتار کہ دار میں وہی دین ہے جو خدا نے نازل کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ روزے یہ نمازیں جو ہم میں سے بعض پڑھتے ہیں ان کے پڑھنے میں ہم کتنا وقت صرف کر رہے ہیں ، جو مصلے پر کھڑا ہے وہ قرآن سنانا نہیں جانتا اور جو سنتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ کیا سُن رہے ہیں اور باقی ۲۳ گھنٹے ہم کیا کرتے ہیں ؟ میں کہتا ہوں گورنری سے گداگری تک مجھے ایک بات ہی بتلاؤ جو کہ قرآن اور اسلام کے مطابق ہوتی ہے ؟ ہمارا تو سارا نظام کفر ہے۔قرآن کے مقابلہ میں ہم نے ابلیس کے دامن میں پناہ لے رکھی ہے۔قرآن صرف تعویذ کیلئے۔قسم کھانے کے لیے ہے یا ا تقریر سید عطاء اللہ شاہ بخاری آزاد ۹ر دسمبر ۱۹۲۹ ، صفحه ۱ و ۲) مندرجہ بالاحوالجات سے کفر و اسلام کے مسئلہ کے متعلق جماعت احمدیہ کا مسلک اور اس کے مقابلہ پر موجودہ زمانے کے دوسرے مسلمان فرقوں کا طریق واضح اور عیاں ہے۔سوالنمبر: کیا ایسے شخص کا فر ہیں ؟ جواب : "کافر" کے معنے عربی زبان میں نہ ماننے والے کے ہیں۔پس جو شخص کسی چیز کو نہیں مانتا اس کے پہلے عربی زبان میں "کافر" کا لفظ ہی استعمال ہو گا۔پیس ایسے شخص کو جب تک وہ یہ کہتا ہے کہ میں فلاں چیز کو نہیں مانتا اس کو اس چیز کا کافر ہی سمجھا جائے گا۔چنانچہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام آئمہ اہل بیت کا انکار کرنے والوں کے متعلق فرماتے ہیں :۔من عرفنا كان مومنا - من انكرنا كان كافراً - من لم يعرفنا و لم ينكرنا كان ضالاً انصافی شرح الاصول الکافی باب فرض الطاعة الأمة كتاب الجنة جزر و صاله مطبوعہ نولکشور) یعنی میں نے ہم آئمہ اہل بیت کو شناخت کر لیا وہ مومن ہے اور میں نے ہارا انکار کیا وہ کافر ہے اور جو ہمیں نہ ماننا ہے اور نہ انکار کرتا ہے وہ مال ہے۔اس ارشاد سے حضرت امام صاحب کی یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ ایسا شخص امت محمدیہ سے خارج ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے اوپر تشریح کی ہے یہی مراد ہو سکتی ہے کہ آئمہ اہل بیت کے درجہ کا منکر ہے ہما رے