تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 309 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 309

(الف) فسادات کا پس منظر کیا تھا اور وہ کونسی وجوہات تھیں جنہوں نے بالآخر فساد کی صورت پیدا کر دی رہیں۔خطبات خفیہ ریشہ دوانیوں وغیرہ سب کو مد نظر رکھا جائے۔اب فسادات کی نوعیت اور تفصیل کی تھی اور فسادیوں کا طریق کار کیا تھا بعیں سے منظم اور سوچی سمجھی ہوئی سکیم پر روشنی پڑتی ہو۔(ج) کون کون سے لوگ فسادات میں پیش پیش تھے اور ان کا طریق کار کیا تھا۔(3) فسادات کیساتھ احرار اور مودودیوں کا خاص تعلق کیا رہا ہے۔(0) علاقہ میں احمدیوں کا جانی اور مالی نقصان کیا ہوا ہے ۱۹۵۷ ، ۹۵۳ ، ہر دو کے متعلق تفصیل تیار ہونی چاہیئے۔(2) علاقہ کے کن کن احمدیوں کو جبر اور تشدد سے احمدیت سے منحرف کیا گیا۔(ن) فسادات کے دوران میں علاقہ کے سرکاری حکام کا رویہ کیا رہا۔(ح) علاقہ کے شریف غیر احمدی احباب کا مشریفانہ رویہ کیا رہا۔(ط) آئندہ کے متعلق امکانی خطرات اور ان کے انسداد کے لیے کیا تجاویز مناسب ہیں۔۔چونکہ کشش نے پندرہ جولائی ایک رپورٹیں اور گواہوں کے نام مانگے ہیں اس لیے پور میں استوائی تک تیار ہو جانی چاہئیں اور گواہوں کی طرف سے درخواست چلی جانی چاہیئے تا اس کے بعد ایک دو دن میں وکلاء اور دیگر واقف کاروں سے مشورہ کر کے بر وقت داخل کرائی جاسکے۔وکلاء اور گواہوں کو بلا توقف تیاری کی ہدایت بھجواکر ایک اطلاع پہلے بھی جاچکی ہے، کام پر لگا دیا جائے۔اور ان کے کام کی مسلسل نگرانی رکھی جائے تاکسی قسم کی غفلت نہ ہو۔- معاوضہ پر کام کرنے والوں کے ساتھ ان کے معاوضہ کا ابھی سے فیصلہ کر لینا چاہیئے تابعد میں کوئی غلط فہمی نہ پیدا ہو مثلاً وکیل رجو مدری اسد اللہ خالصاحب یا شیخ بشیر احمد صاحب) اور جونیئر وکیل دشیخ نور احمد صاحب) کے معاوضہ کا فیصلہ کیا جاوے اور حضرت صاحب یا انجمن سے بر وقت منظوری حاصل کر لی جائے۔۹- جملہ کارروائی کے ساتھ ساتھ حضرت صاحب کی خدمت میں رپورٹ بجھوائی جاتی رہے۔بہ لائحہ عمل صرف سرسری ہے۔جو محمبل صورت میں تیار کیا گیا ہے۔دفتر مرکزی اور د کلا مادر گواہیان