تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 308
ستر سال اپنے عقائد کی معقول تشریح پیش کرتی چلی آتی ہے۔یہ بھی اشارہ کر دیا جائے کہ مجلس احرار کی اصل عرض پاکستان کو کمزور کر نا اور مہندوستان کے لیے رستہ صاف کرنا تھی دو مری سرپورٹ میں گزشتہ فسادات میں جماعت کے جانی ومالی نقصانات کی تفصیل صحیح صحیح صورت میں پیش کی جائے یہ دو رپوریٹیں۔ارجولائی سوار یک مکمل ہو کر ان پر بحث ہو جانی چاہیئے۔اس لیے یہ کام با توقف شروع کر دینا چاہیئے۔۴- نظارت امور عامہ جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش ہونے کے لیے ایک قابل وکیل مقرر کرے۔(چوہدری اسد اللہ خانصاحب یا شیخ بشیر احمد صاحب یا کوئی اور) جو مکمل تیاری کے بعد جماعت کی طرف سے مقرہ تواریخ پر پیش ہو۔اس وکیل کی مدد کے لیے دو جونیئر وکیل رچو ہدری غلام مرتضی صاحب اور شیخ نور احمد صاحب بطور سولیٹر مقر کیے جائیں جو تمام مزدوری ریکارڈ اور شادات کا مطالعہ کر کے وکیل کی بحث کے لیے مواد تیار کرے۔حسب ضرورت ملک عبد الرحمن صاحب خادم سے بھی مدد لی جائے۔۔جماعت کی طرف سے چند سمجھ دار اہل الرائے اور با حیثیت اصحاب کو بطور گواہ تیار کیا جائے جو کیشن کے سامنے پیش ہو کہ فسادات کے موجبات اور تفصیلات اور جماعت کے نقصانات وغیرہ کے بارہ میں شہادت دیں۔اس گواہی کے لیے ناظر صاحب امور عامہ دور و صاحب) میاں ناصر احمد صاحب۔شیخ نور احمد صاحب - چوہدری اسد اللہ خان صاحب یا شیخ کبیر احمد صاحب ریعنی ان دونوں میں سے جو بطور وکیل مقریہ ہو اس کے علاوہ دوسرا چو ہدری نذیر احمد صاحب باجوہ سیالکوٹ پیشیخ محمد احمد صاحب لائلپور۔میر محمد بخش صاحب گوجرانوالہ۔میاں عطاء اللہ صاحب پنڈی۔چوہدری محمد شریف صاحب منتگری (برائے ادکارہ اور ملتان کا کوئی نمائندہ مثلاً عبد الرحمن صاحب کلا ق مرچنٹ یا میاں عبد الرحیم مناسب پراچہ اور ملک عبدالرحمن صاحب خادم، در و صاحب اور خادم صاحب عمومی گواہ ہوں گے اور باقی اپنے اپنے علاقہ کے مخصوص گواہ ہوں گے۔ان کی طرف سے بروقت درخواست بھجوا دینی چاہیئے۔اسی طرح اگر کوئی با حیثیت شریف غیر احمدی گواہ مختلف علاقوں سے تیار کئے جاسکیں تو اس کے لئے ضروری کوشش کی جائے۔ایسے لوگوں کی جماعت کے حق میں گواہی بہت مفید ہوسکتی ہے۔ایسے اسباب اپنی شہادت براہ راست پیش کریں۔4۔وکلاء اور گواہ صاحبان نتیاری میں مندرجہ ذیل امور کو خصوصیت سے مدنظر رکھیں۔