تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 289 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 289

ریا بادی کا ارشاد کس حد تک قابل قبول ہے ؟۔لیکن مرزا غلام احمد کے نہ ماننے والے کے متعلق قادیانیوں۔کا نقطہ نظر معلوم ہو جائے تو اختلاف کی حدیں بڑی مدتک سمٹ سکتی ہیں اور نہ اس بیان سے متعلق وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ میں مقصد کے لیے یہ شائع کیا گیا ہے اُسے بوجہ احسن پورا کر سکے گا بينوا وتوجروا ۲۔میاںمحمد شفیع صاحب نے اخبارہ آٹار“ (لاہور) ۲۰ رجون ۱۹۵۳ء میں لکھا۔: ۳ سالہ ذہین و فطین مرزا بشیر الدین محمود احمد نے مسلمانوں کے متعلق اپنی جماعت کے مؤقف کی ایک بیان میں وضاحت کی ہے۔انہوں نے بانی سلسلہ اور جماعت کے مذہبی عقائد کی بھی اس بیان میں تو منیح کی ہے۔رکیا اچھا ہوتا کہ لاہور کے اختبارات اس بیان کا مفصل متن چھاپ دیتے تاکہ عوام اور خواص اسے پڑھو کہ خود کوئی رائے قائم کر سکتے) پاکستان کے مذہبی طبقوں کا اس بیان کے متعلق کیارہ تو عمل ہوگا ؟۔میں اس سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔میرے نز دیک اس بیان کا اہم ترین حصہ وہ ہے جس میں مرزا صاحب نے اپنی جماعت کے ارکان کو تلقین کی ہے کہ وہ تبد علی عقیدہ کی عرض سے کوئی اقدام نہ کریں اور کہ وہ مسلمانوں کے دیگر فرقوں کے ساتھ متنازعہ عقائد پر مباحثہ اور مناظرہ نہ کریں اور یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ خاتم النبین تسلیم کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان پر خدا کے جو احکام نازل ہونے وہ آخری تھے ا ہے لے آفاق اور جون ۱۹۵۳ ء ص ۳ به سه آثاره لاہور ۲۰ جون ۱۹۵۳ء ص و لا ہور کی ڈائری ملاخبار کے مینجنگ ایڈیٹر مولوی اختر علی خاں)