تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 288 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 288

۲۸۲ بعض مشہور اخبارات نے بھی اس کا خیر مقدم کیا۔(1) روزنامه آفاق" لاہور مورخہ ۲۱ جون ۱۹۵۳ء نے قادیانیوں کے امام کا بیان " کے زیر عنوان حسب ذیل ادارہ یہ سپر د قلم کیا۔قادیانیوں کے امام مرزا بشیر الدین محمود صاحب کا ایک بیان اخبارات میں آیا ہے۔اس بیان میں مرزا صاحب نے نہایت شرح صدر کے ساتھ ان تمام شکوک و اعتراضات کو یہ فتح کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔جو عام طور پر اُن کی جماعت کے متعلق کئے جاتے ہیں اور جنہوں نے گزشتہ ایام میں ایک نہایت خطرناک صورت اختیار کر لی تھی۔مرزا صا حب کا ارشاد ہے کہ وہ ۱- رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین اور آپ کی شریعت کو آخری مانتے ہیں۔۲۔دہی اعتقاد رکھتے ہیں تجہ توحید نبوت اور قیامت کے متعلق عام مسلمانوں کا ہے۔۔وہ۔وہی اعمال بجا لاتے ہیں جو دوسرے مسلمان بجا لاتے ہیں۔۔وہ مسلمانوں کے خصوصاً اور عام انسانوں کے عموماً ہمدرد اور بہی خواہ ہیں۔- وہ کلمہ گو اہل قبلہ کو امت محمدیہ کا فرد اور جزو سمجھتے ہیں۔• یہ پنجگانہ نکات اپنی جگہ بہت خوب ہیں اور انہیں پڑھ کر اکثر مسلمان ایک سے زائد بار سومیں گے کہ اگر ان لوگوں کے عقائد یہی ہیں تو قدر مشترک بہت زیادہ ہے۔لیکن مرزا صاحب اگر ان نکات کے ساتھ ہی ایک نکنند کی وضاحت اور سبھی فرما دیتے تو اختلافات کی وہ خلیج جو عام مسلمانوں اور اُن کی جماعت کے درمیان دیر سے حائل ہے اور پچھلے دنوں بہت وسیع ہوگئی تھی، بڑی حد تک بیٹ سکتی تھی اور وہ نکتہ یہ ہے کہ جو مسلمان مرزا غلام احمد صاحب کو نہیں مانتے ، ان کا مقام و منصب قادیانیوں کے نزدیک کیا ہے ؟ آیا قادیانی حضرات ان سے دین و دنیا کے معاملات میں ایسا تعاون کر سکتے ہیں جو باوجود فروعی اختلافات رکھنے کے مسلمانوں کے دوسرے فرقوں میں نظر آتا ہے ، اگر اس کا جواب اثبات میں ہو تو پھر امام جماعت احمدیہ کا بیان بڑی حدتک موربہ ہو جاتا ہے۔رہی یہ بات کہ خاتم النبیین کے معنومی تصویر میں قادیانی حضرات کونسی تاویل کرتے ہیں اس کا جواب مولانا عبد الماجد نے یہ دیا تھا کہ تا دیل خواہ کیسی ہی رکیک جود، کذب و انکار کے مترادف نہیں ہوتی۔ہمیں معلوم نہیں کہ عامتہ المسلمین کے نز دیک مولانا