تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 19 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 19

14 پیارے بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے زیور میں حضرت داؤد کی ابتدائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آنہ مائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبا نہ تضرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب مخز الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتهالات اسی قانونِ قدرت کی تصریح کرتے ہیں : اگر یہ ابتلاء درمیان میں نہ ہوتا تو انبیاء اور اولیاء اُن مدارج عالیہ کو ہر گز نہ پاسکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے انہوں نے پالے۔ابتلاء نے اُن کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں۔اور کیسے پیچھے وفا دار اور عاشق صادق ہیں کہ اُن پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزے اُن پر وارد ہوئے اوروہ ذلیل کیے گئے ، اور جھوٹوں اور مکار وں اور بے عزبہ توں میں شمارہ کیسے گئے اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مددوں نے بھی جن کا اُن کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک نہ چھپا لیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مرتبا نہ عادت کو بہ یکبارگی کچھ ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مورد غضب ہیں اور اپنے تیئی ایسا خشک ساد کھلایا کہ گویا وہ اُن پر ذرا مہربان نہیں بلکہ آن کے دشمنوں پر مہربان ہے اور اُن کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طویل کھینچ گیا۔ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلاء نازل ہوا۔غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت و سختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں اُن پر ہوئیں پر وہ اپنے بچے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سنست اور شکستہ دل نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا بار اُن پر پڑتا گیا اتنا