تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 20 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 20

ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور میں قدر وہ توڑے گئے اُسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر انہیں مشکلات راہ کا خوف دلایا گیا اُسی قدر أن کی ہمت اور شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی۔بالاخر وہ اُن تمام امتحانات سے اول درجہ کے پاس یا فتہ ہوکر نکلے اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو گئے اور عزت اور حرمت کا تاج اُن کے سر پر رکھا گیا اور تمام اعتراضات نادانوں کے ایسے حساب کی طرح معدوم ہو تھے کہ گویا وہ کچھ بھی نہیں تھے عزمن انبیاء و اولیاء ابتلاء سے خالی نہیں ہوتے بلکہ سب سے بڑھ کر انہیں پر ابتلاء نازل ہوتے ہیں اور انہیں کی قوت ایمانی ان آزمائشوں کی برداشت بھی کہتی ہے عوام الناس جیسے خدا تعالے کو شناخت نہیں کر سکتے دیسے اُس کے خالص بندوں کی شناخت سے بھی قاصر ہیں بالخصوص ان محبوبان الہی کی آنہ مائش کے وقتوں میں تو عوام الناس بڑے بڑے دھوکوں میں پڑھاتے ہیں گویا ڈوب ہی جاتے ہیں اور اتنا میر نہیں کر سکتے کہ اُنکے انجام سے منتظر رہیں۔عوام کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ جل شانہ حبس پودے کو اپنے ہاتھ سے لگاتا ہے اُس کی شاخ تراشی اس غرض سے نہیں کہتا کہ اس کو تا بود گر دیوے۔بلکہ اس غرض سے کرتا ہے کہ تا دہ پودا پھول اور پھل زیادہ لاوے اور اُس کے برگ اور بار میں برکت ہو۔پس خلاصہ کلام یہ کہ انبیاء اور اولیاء کی تربیت باطنی اور تکمیل روحانی کے لیے ابتداء کا ان پر دارد ہوتا ضروریات سے ہے اور ابتداء اس قوم کے لیے ایسا لازم حال ہے کہ گویا ان ربانی سپاہیوں کی ایک روحانی در دی ہے، نہیں سے یہ شنا خت کیے جاتے ہیں ہے ه سبز اشتہار صفحه ۱۴۰۱۱ مطبوعہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ ۶ ریاض ہند پریاں امرتسر