تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 18
روڑا آرہا ہے۔وہ میرے پاس ہے۔وہ مجھ میں ہے۔خطرات ہیں اور بہت ہیں۔مگر اُس کی مدد سے سب دور ہو جائیں گے۔تم اپنے نفسوں کو سنبھالو اور نیکی اختیار کر در سلسلہ کے کام خدا خود سنبھالے گا یا لے یہ پیغام خدا کے موعود و مقدس خلیفہ نے القائے ربانی کے تحت دیا تھا جس کے بعد خدا تعالیٰ کی تائیدات سماوی کے غیبی سامان پیدا ہوئے مگر جماعت احمدیہ بے شمار مصائب و مشکلات کے طوفانوں میں بھی گھر گئی تھی جس کے دوران خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستانی احمدیوں نے انتہائی مخالفت کے باوجو د صبر و رضا اور ایثار و قربانی کا بے مثال نمونہ دکھلایا جو اس کا واضح ثبوت تھا کہ یہ جماعت خدا تعالیٰ کی قائم کر دہ ہے اور انہی قدموں پر چل رہیا ہے جن پر خدائی جماعتیں ہمیشہ ملیتی آئی ہیں اور ترقی کرتی رہی ہیں۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام فلسفه ابتلاء پر بصیرت افروز روشنی ڈالتے ہوئے تحرکیہ فرماتے ہیں کہ : - ابتلاء جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور باوجود عزیز ہونے کے ذلت کی صورت میں ان کو ظاہر کرتا ہے اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود سے کر کے انکو دکھاتا ہے یہ ابتلاء اس لیے نانول نہیں ہوتا کہ اُن کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحہ عالم سے ان کا نام و نشان مٹادیوے کیونکہ یہ تو ہرگزہ ممکن ہی نہیں کہ خداوند عزوجل اپنے پیار کرنے والوں۔دشمنی کرنے لگے اور اپنے پیچھے اور وفادار عاشقوں کو ذلت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے بلکہ حقیقت میں وہ ابتلاء کہ جو شیر بر کی طرح اور سخت تاریخی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لیے نازل ہوتا ہے کہ تا اُس بر گزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پہنچا دے۔اور اپنی معارت کے باریک دیتے ان کو سکھا رہے۔یہی سنت اللہ ہے۔جو قدیم سے خدائے تعالیٰ اپنے سے ہفت رونده " فاروق" لاہور - ۲ مار پچ ۱۹۵۳ء صل /