تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 261 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 261

۲۵۹ سینے۔مرزا شریف احمد احمدی جماعت کے بانی مرزا غلام احمد کے صاحبزا دے اور احمدی جماعت کے موجودہ پیش ہوا کے حقیقی بھائی ہیں۔یہ بزرگ جن کی عمر باسٹھ برس کی ہے لاہور میں بندوق سازی کے ایک کارخانہ کے مالک ہیں اور یہ کارخانہ پاکستان گورنمنٹ سے لائسنس حاصل کر کے جاری کیا گیا۔چنانچہ اس فرم کو ایک فوج افسر نے نمونہ کے طور پر ایک کہ پچا دی۔کیونکہ پاکستان گورنمنٹ اس نمونہ کی کہ میں تیار کرانا چاہتی تھی۔اور اس کرپ کے متعلق جو خط وکی آیت محکمہ فوج سے ہوئی وہ مرزا شریف احمد کے پاس موجود ہے۔جسے عدالت میں داخل کیا گیا گر مرزا مشریف احمد کو اس کرپ کے ناجائزہ رکھنے کے جرم میں ایک سال قید سخت اور پانچ ہزار ور یہ جرمانے کی سزا دی گئی۔مارشل لاء کی فوجی عدالت کا ایسے مقدمات میں پانچ پانچ ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا دینا تو خیر قابل در گزر ہے کیونکہ پاکستان اقتصادی بدحالی میں مبتلا ہے اور اس طریقہ سے روپیہ حاصل کرکے یہ ملک اپنے فوجی اخراجات کسی نہ کسی حد تک پورے کر سکتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اوپر کے دو مقدمات کو اگر کسی انصاف پسند عدالت یا غیر جانبدار ملک کے سامنے پیش کیا جائے تو پاکستان گورنمنٹ کی کیا پوزیشن ہو۔اور کیا دنیا کا کوئی معقولیت پسند شخص اس شرمناک دور استبداد کو برداشت کر سکتا ہے اور کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذہبی پاگل پن میں پاکستان کے عوام کے علاوہ وہاں کے حکام بھی مبتلا ہیں جو چھری رکھنے کے جرم میں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو پانچ پانچ برس قید سخت کی سزا دے رہے ہیں۔اوپر کی سزاؤں کے متعلق ہم نے غور کیا ہے اور غور کرنے کے بعد ہماری رائے ہے کہ یہ سزائیں احمد می جماعت کی بنیا دوں کو زیادہ مضبوط کرنے کا باعث ہوں گی اور احمدیوں کو خدا کا شکر گزار ہونا چاہیئے کہ ان بے گناہوں کو قربانی کا موقعہ نصیب ہوا اور ایسی قربانیاں یقینا احمدیت میں ایک دوامی زندگی پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہیں کیا ہے -- اخبار" ہند و لاتے بعنوان " پاکستان نے گھٹنے ٹیک دیتے " حسب ذیل نوٹ سپر در قلم ه اخبار ریاست و علی مؤرخہ ۱۲۷ اپریل ۱۹۵۳ء مده کالم على