تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 260
۲۵۸ بھارتی پریس کے تبصرے اس غیر دانشمندانہ اقدام کا نہایت افسوسناک پہلو یہ تھا کہ اس کے نتیجہ میں پاکستان کی بیرونی دنیا میں سخت بد نامی توٹی جو پاکستان کے ہر محب وطن احمدی کے لیے مزید قلبی وذہنی اذیت کا موجب بنی۔ا - اخبار ریاست دہلی نے " احمدی جماعت کا کارخانہ اسلحہ سازی کے زیر عنوان لکھا۔پچھلے دنوں اخبارات میں ایک اطلاع شائع ہوئی تھی کہ احمدی جماعت کے لاہور کے ہیڈ کوارٹر کی مارشل لاء کے حکام نے تلاشی لی اور وہاں سے اسلحہ ساز می کا کارخانہ اور تیار شدہ اسلحہ ملائیں کے جرم میں احمدی جماعت کے پیشوا کے صاحبزادے اور بھائی کو مارشل لاء کے ماتحت پانچ اور ایک برس قید اور پانچ پانچ ہزار روپیہ جرمانہ کی سزائیں ہوئیں۔اس سلسلہ میں لاہور کے ایک دوست نے اصل حالات بھیجے ہیں جو یہ ہیں۔احمدی جماعت کے موجودہ پیشوا کے بڑے لڑکے مرزا ناصراحمد اکسفورڈ یونیورسٹی کے ایم اے ہیں۔اور آپ لاہور کے ٹی آئی کالج کے پرنسپل تھے اور آپ کی شادی موجودہ نواب مالیر کوٹلہ کے چچا کی صاحبزادی سے ہوئی اور جب شادی ہوئی تو آپ کے خسر نے آپ کو زیورات اور مخالف کے ساتھ ایک خنجر بھی دیا جس کا دستہ سنہری تھا اور جو مالیر کوٹلہ کے شاہی خاندان کی نادر اشیاء میں سے تھا۔قانون کے مطابق ہندوستان کے ہر والئے ریاست اور اس کے خاندان کے لوگ ایکٹ اسلحہ سے مستثنی ہیں اور اس لحاظ سے مرزا ناصر احمد کی بیوی بھی نواب مالیر کوٹلہ کی تقریبی عزیزہ ہونے کے باعث قانوناً ایکٹ اسلحہ سے مستشفی ہیں۔مگر لاہور کے مارشل لا ء کی ستم ظریفی ملاحظہ کیجیئے کہ جب تلاشی ہوئی تو یہ منجر زمین کی پوزیشن ایکٹ اسلحہ کے مطابق بھی آلو ساگ یا گوشت کاٹنے والی ایک چھری سے زیادہ نہ ہونی چاہیے تھی) بیگم مرزا ناصر احمد کے زیورات میں پڑا تھا جس کو فوجی حکام نے حاصل کر کے مرزا ناصر احد پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا اور آپ کو پانچ سال قید سخت اور پانچ ہزار و یہ جرمانے کی سزا دی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کا یہ گریجویٹ اور لاکھوں احمدیوں کے پیشوا کا بیٹا آج لاہور کے سنٹرل جیل میں بطور قیدی کے اب بان بیٹ رہا ہے۔یہ کیفیت تو مرزا ناصر احمد اور آپ کے مقدمہ اور سزا کے متعلق ہے۔اب دوسرا واقعہ