تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 248
۲۴۶ that I should instuct all Ahmadies that they should not say or publish any statement or report about Ahrar-Ahmadiyya controversy or Anti-Ahmadiyya agitation۔I have told him that as His Excellency has ordered me to refrain from saying or publishing anything about matters which are likely to promote feelings of hatred etc 1 cannot do that۔It is possible that whatever I write may contain something which, though not objectionable in my opinion, may be objectionable in the opinion of the Government۔You know that about three weeks back D۔C۔Jhang asked me to issue orders to the community to remain peaceful and I did it۔But at that time I was a free agent which now I am not۔I have the honour to be, Sir, (Sd)(Mirza Bashirud-Din Mahmud Ahmad) منجانب مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۵۳ بخدمت جناب ہوم سیکرٹری صاحب پنجاب۔لاہور جناب من! ڈی ایس پی صاحب جھنگ نے مجھے بلایا ہے کہ آپ نے انہیں یہ ہدایت دی محتی کہ وہ مجھے اس امر سے مطلع کریں کہ میں تمام احمد یوں کو حکم دوں کہ وہ احرار - احمدی تنازع یا جماعت احمدیہ کے خلاف ایجی ٹیشن کے بارے میں نہ تو کوئی بات کہیں اور نہ کوئی بیان یا رپورٹ شائع کریں۔میں نے انہیں جواب دیا ہے کہ چونکہ عربت تاب گورنر صاحب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں کوئی ایسی بات نہ کہوں نہ شائع کروں جس سے اشتعال پیدا ہونے کا امکان ہے اس لیے میں اس حکم کی تعمیل سے معذور ہوں۔کیونکہ اس امر کا امکان ہے کہ جو کچھ میں لکھوں وہ اگرچہ میری دانست میں قابل اعتراض نہ ہو لیکن حکومت کی نگاہ میں وہ قابل اعتراض مشتہر ہے۔آپ جانتے ہیں کہ قریباً تین ہفتہ قبل ڈی۔سی۔جھنگ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اپنی جماعت کے افراد کو پر امن رہنے کی ہدایت جاری کروں اور میں نے ایسی ہدایت جاری کر دی تھی۔اس وقت ایسی ہدایت جاری کرنے پر مجھ پر کوئی پابندی نہ تھی لیکن اب مجھ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔خاکسانه دستخط (مرز البشير الدين محمود احمد)