تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 249
استند تا حضرت معلم و خون اور مارین ان کو دی پر شدت خدائی انشان کا ظہور صاحب پولیس جنگ کو قوت یقین سے بریہ مین الفاظ میں قبل از وقت خبر دے دی تھی۔وہ چند دنوں کے اندر اندر ایسے حیرت انگیز طریق پر پوری ہوئی کہ ایک عالم انگشت بدنداں رہ گیا۔پاکستان کی مرکزی حکومت کے حکم سے مسٹر آئی آئی چند دیگر کو جو اس وقت گورنر پنجاب تھے بر طرف کر دیا گیا اور ان کی جگہ میاں امین الدین صاحب گورز پنجاب مقریہ ہوئے جنہوں نے یکم مئی ۱۹۵۳ء کو یہ ظالمانہ لوٹ واپس لے لیا۔اس درست اور مبنی یہ النضاف اقدام پر جماعت احمدیہ کی طرف سے گورنر صاحب پنجاب اور حکومت پاکستان کو مبارکبا د دی گئی اور اس حقیقت پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت ہوگئی کہ سه جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اسے رو بہ زار ونزار حضرت مصلح موعود نے اگلے سال سال ۴ر احسان بعد خطبہ جمعہ می نوش پر عارفانہ بصرہ | اش رو جو اس کے خلا جمعہ کے ۳۳ مش رجون ۱۹۵۳ء خطبہ دوران چند دیگر صاحب کے نوٹس پر عارفانہ تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا : انسان کے ساتھ جو والدین کا تعلق ہے وہی تعلق حکومت کا ہے۔اگر حکومت کہتی ہے کہ تم فلاں جگہ کھڑے ہو جاؤ تو ہم اس کے حکم کی اطاعت کہ میں گئے اور اس جگہ کھڑے ہو جائیں گے اگر وہ کہتی ہے فلاں کام کردہ تو ہم کر دیں گے۔لیکن اگر وہ کہے کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق فلاں بات مت کہو تو ہم اس کی اطاعت نہیں کریں گے یہاں حکومت کے قوانین ختم ہو جاتے ہیں اس کے بعد وہ بے شک ڈنڈا چلائے لیکن خدا تعالی کہتا ہے تم اس کی اطاعت نہ کرو تم رہی کہو جو میں کہتا ہوں مثلاً اگر تم کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ قادر ہے تو بے شک حکومت یہ قانون بنا دے کہ تم خدا تعالٰی کو قادر نہ کہو کیونکہ ایسا کہنے سے ان لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کو قادر تسلیم نہیں کرتے پھر بھی خدا تعالیٰ کا حکم یہی ہوگا کہ تم اسے قادر کہتے نہ ہو۔گزشتہ سال میں نے ایک اعلان میں کہا تھا کہ خدا تعالیٰ ہماری مدد اور نصرت