تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 246
انہ ایم بی محمود احمد امام جماعت احمدیہ ربوہ (ضلع جھنگ) مورفته - ۲ مارچ ۱۹۵۳ء ر بخدمت جناب عزت مآب گورنر صاحب پنجاب۔لاہور جناب عالی جمعرات مورخہ ۱۹ار مارچ کو بعد دو پہر ڈی۔الیں۔پی جھنگ نے ایک حکمنامہ سے مجھے اطلاع دی ہے جس پر آں عزت مآب کے حکم کے تحت ہوم سیکر ٹی پنجاب کے دستخط تھے اور جو سیفٹی ایکٹ مجریہ ۱۹۳۹ء کی دفعہہ کی ذیلی دفعہ اجر رو) کے تحت جاری کیا گیا تھا۔مجھے اس رنوٹس) حکم نامہ کے جاری کیے جانے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی بالخصوص جب کہ جماعت اسلامی کے مولوی مودودی صاحب جیسے جارح افراد پہلے سے بھی نہ یادہ جوش خروش سے جماعت احمدیہ کے خلاف لٹریچر تقسیم کرنے میں مصروف ہیں اور اس امر کا برملا اعلان کہ رہے ہیں کہ حکومت نے لاقانونیت کو دبانے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ تمام کے تمام غیر منصفانہ اور ظالمانہ ہیں اور یہ کہ انہوں نے ان کو نا کام کر دینے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔تاہم جہاں تک میرا علم ہے ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔علاوہ انہیں روزانہ اس اس کی افوا میں پھیلائی جارہی ہیں کہ مجھے قتل کر دیا گیا ہے یا ربوہ کو جلا دیا گیا ہے یا یہ کہ ہر جگہ کے احمدی اپنے عقائد سے دستبردار ہو گئے ہیں اور ان افواہوں سے احمدیوں کو بے حد فکر لاحق ہو رہا ہے۔ان امور کے پیش نظر میں سمجھتا ہوں کہ یہ نوٹس کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے لیکن اس سے قطع نظر کہ یہ کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے یا نہیں چونکہ اسلام کا یہ حکم ہے کہ حکومت وقت کے احکام کی تعمیل کی جانے میں اپنے علم اور سمجھ کے مطابق ہر طرح ان احکام کی تعمیل کروں گا اور اپنی عزت کا معاملہ خدا پر چھوڑتا ہوں جس نے مجھے حکومت کے احکامات کی تعمیل کا ارشاد فرمایا ہے۔میں خدا تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ پر حق کھول دے میری عزبات کی لاج رکھے اوران پریشان کن اللہ میں پاکستان کی مدد فرمائے۔میں ہوں جناب کا تابعدار مرز البشير الدين محمود احمد ) امام جماعت احمدیة