تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 13 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 13

بن کر اُن کے لیے راستہ ہموارہ کر رہے ہیں۔به نام بها در مہبر اور تقدس تاب جو کچھ اس سے پہلے کرتے رہے ہیں وہ سب پر ظاہر ہے۔خراساں کے بعد عراق کا دروازہ تاتاریوں پر ان حضرات ہی نے تو کھولا تھا آخر غرناطہ قرطبه، بغداد ، قسطنطنیہ ، اصفہان اور دلی کی اینٹ سے اینٹ بجوانے میں اپنوں ہی کا تو ہاتھ تھا۔تقسیم ملک سے پہلے جو تقدس تاب پاکستان کی مخالفت کیا کرتے تھے وہ ایک عرصہ تک خاموش رہے اور اُس وقت کا انتظار کرتے رہے جب کہ وہ کسی مذمپبی نعرے کی آٹے کر مسلمانان پاکستان کو مشتعل کر کے اپنا سیاسی انتقام لے سکیں اور اس طرح پاکستان کی آزادی کو ختم کروا سکیں موقع مل گیا اور عرصہ سے سوچی سمجھی ہوئی سکیموں پر عمل درآمد کرنے کا وقت آگیا۔اس ناپاک مقصد کے لیے ختم نبوت کے مقدس عقیدہ کو بہانا بنا یا گیا اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھا کہ ختم نبوت کے نام پر ملک میں ایک تحریک سول نافرمانی کا آغانہ کہ دیا گیا ، لوگوں کو قانون شکنی پر ابھارا گیا ، انہیں لوٹ مار اور غنڈہ گردی کی تلقین کی اور اس طرح جہاں پاکستان کے امن پسند شہریوں کے جان ومال کے لیے خطرہ پیدا کیا وہاں پر لگے ہاتھوں خود پاکستان کی داخلی و خارجی آزادی کو معرض خطر میں ڈال دیا۔۔۔۔پنجاب کی حکومت اور راولپنڈی کے حکام نے ہمیشہ اور ہر حال میں اس تحریک کا احترام کیا۔اس کا ثبوت اس بات سے مل سکتا ہے کہ صوبہ کے کسی شہر میں بھی اس وقت تک دفعہ ۱۴۴ یا کر نیو کا نفاذ نہیں کیا گیا جب تک کہ انتشار پسند، وطن دشمن ، غنڈہ عناصر اور اپنی سیاسی اغراض کے لیے اس تحریک کو آلہ کار بنانے والوں نے پُر امن شہریوں کے شہری حقوق کے لیے ایک عظیم خطرہ پیدا نہیں کر دیا ، حکومت کی فراخ دلانہ پالیسی سے ناجائز فائدہ اٹھاکر تحریک ختم نبوت کی آٹ میں۔۔۔۔۔لوٹ مار اور غنڈہ گردی کی گئی ، قانون کا مضحکہ اُڑایا گیا، جس طرح حکومت کے ملازمین پر قاتلانہ حملے کئے گئے ، موٹر لاریوں اور مکانات کو آگ لگائی گئی اور حکومت کے نظم ونسق میں ایک منظم سازش کے تحت ابتری پیدا کرنے کی کوشش سے