تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 214 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 214

۲۱۲ نے زور سے چھلانگ لگائی مگر مومن میں ساتھ ہی اچھلے اور باگ نہ چھوڑی۔گھوڑی نے اپنی لگی نگیں بٹھا کر ان کو کچلنا چاہا۔اس پر میں نے نہ دور سے کہا کہ چھوڑ دو گھوڑے کو چھوڑ دو ورنہ مرجاؤ گے لیکن انہوں نے مضبوطی سے گھوڑے کو کپڑے دیکھا۔چھوڑا نہیں۔آخر تھوڑی دیر شرارت کر کے گھوڑا ٹھیک ہو گیا تب میں نے کہا کہ مومن جی تم سپاہی تو نہیں ہو مگر ہم تمکو سپاہی کی جگہ کھڑا کریں گے“ پھر میری آنکھ کھل گئی۔اس رویا میں مومن جی کے لفظ سے خاص شخص مرا در نہیں بلکہ سادہ لوح وسن مراد ہے۔جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وجیہ کلبی کی صورت میں جبریل کو دیکھا تھا۔اسی طرح جماعت (نیک لوگوں) مومن جی کی صورت نہیں دیکھائی گئی ہے اور مطلب یہ ہے کہ مومن ایک طرت تو اتنا سادہ لوح ہوتا ہے کہ جوش ایمانی میں یہ بھی نہیں دیکھتا کہ اس کے شعر میں وزن ہے یا نہیں اپنے دل کے جوش کے اظہار کے لیے بے پرواہ ہو کہ نکل کھڑا ہوتا ہے۔لوگ اس پر ہنتے ہیں مگر اس کی سنجیدگی میں فرق نہیں آتا وہ خدا کی باتیں پہنچاتا جاتا ہے۔دوسری طرف نرم اور سادہ اور کمزور ہونے کے باوجود اسلام اور اس کے نظام کی قیمت اس کے دل میں اتنی ہوتی ہے کہ وہ اپنی جان کے خوف سے بے پرواہ ہو کہ خدمت دین میں لگ جاتا ہے اور مصائب سے ڈرتا نہیں۔مشکلات سے گھراتا نہیں معنی کہ اپنے لوگ بھی سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اب وہ مارا جائے گا۔کچلا جائے گا لیکن خدا تعالیٰ اس کے اخلاص کو ضائع ہونے نہیں دیتا۔فرشتے اس کی مدد کو اترتے ہیں اور وہ آفتوں سے اسے بچاتے ہیں اور خود سری کی روح کو توڑنے ہیں وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔تب آسمانی گروہ کو کہنا پڑتا ہے کہ تم سپاہی تو نہیں ہو مگر ہم تم کو سپاہیوں کی جگہ کھڑا کریں گے۔" والسلام خاکساره مرز امحمود احمد د امام جماعت احمدیہ) اس بلیٹن کے ساتھ جناب ناظر صاحب دعوت در تبلیغ نے مندرجہ ذیل ہدایت دی : یہ بلیٹی میں جس کے پاس پہنچے وہ آگے دوسروں تک پہنچائے اور پہنچا تا چلا جائے تاکہ جماعت کی گبھراہٹ دور ہواور وہ حالات سے واقف رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔اطلاع ملی ہے کہ سیالکوٹ میں دو احمدی شہید کر دیئے گئے ہیں نے کہ یہ اطلاع خلاط ثابت ہوئی (مرتب)