تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 213
PI بھی وہی برکتیں موجود ہیں۔صرف آگے بڑھنے اور اٹھانے کی ضرورت ہے۔خداتعالی تمہارے ساتھ ہو۔میں نے آج رات ایک خواب دیکھا جوہ اسی بارہ میں معلوم ہوتا ہے میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے ان کے لڑکے میاں عبد السلام بیٹھے ہیں یہی موجودہ عمر اور اسی طرح کی داڑھی ہے مگہ نہ یادہ تراشی ہوئی۔بجائے حضرت خلیفہ اول کی طرف منہ کرنے کے پہلو بدل کر بیٹھے ہیں اور حضرت خلیفہ اول ان پر خطاہو ہے میں ورکر سے ہی کہ ایسی بیوہ نظمیں شاکر داری پریشان کر دیا ہے۔میں نے بیٹھ کر دیکھا تو عزیزم عبد السلام کی پیٹھ کے پیچھے دو کاغذ پڑے ہیں میں نے ایک کو اٹھا کر دیکھا تو اس پر کئی شعر لکھے ہیں۔ایک مصرعہ ہے، آہستہ آہستہ آخر یہ کر چین گھر پر آیا ریا پہنچا میں اسے پڑھکر ہنس پڑا اور میں نے حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ یہ میاں عبد السلام کی تقریر تو نہیں وہ آپ کو مومن جی کے شعر سنا کر خوش کر رہے تھے۔پھر میں نے کہا کہ مومن چی راصل نام خدا بخش پیالہ کے رہنے والے بوجہ سادہ طبیعت کے لوگ مومن جی کہتے ہیں مگر جاگتی دنیا میں انہوں نے شاید کبھی شعر نہیں کہا یا میں نے نہیں سنا ، کچھ ایسے پڑھے لکھے تو میں نہیں ہوش میں آتے ہیں تو شعر کہنے لگ جاتے ہیں جن کا نہ وزن ہوتا ہے۔نہ مضمون۔یہ لڑکے ان کے شعروں پر مذاق اڑاتے ہیں۔اسی وجہ سے میاں عبد السلام نے آپ کو یہ شعر سنا دیئے تھے۔یہ بات سن کر حضرت خلیفہ اول بھی ہنسنے لگ گئے اور سمجھ گئے کہ میاں عبد السلام کا یہ فعل ان کو خوش کرنے کے لیے تھا۔پھر پوچھنے لگے آخر اس مصرعہ کا مطلب کیا ہوا۔میں نے کہا کہ انہوں نے کہیں سنا ہوگا کہ مسیح کو کرائسٹ کہتے ہیں وزن کی تو خیر نہیں ضرورت ہی نہیں۔ذرا شعر کو رایزنی آراستہ کرنے کے لیے حضرت مسیح موعود کو کرائسٹ کہنا چاہا مگر چونکہ کرائسٹ نہیں آتا محت کر میچین لکھ دیا اور مطلب یہ ہے کہ مسیح آہستہ آہستہ اپنے مقام پر پہنچے گیا۔اس پر آپ اور ہئے۔اس کے بعد یکدم حضرت خلیفہ اول غائب ہو گئے اور ان کی جگہ حضرت راماں جان ، آگئیں اور آپ نے کہا کہ میاں ! تم نے یہ کیا لکھا ہے کہ تم پاہی تو نہیں ہو مگر ہم تم کو سپاہیوں کی جگہ کھڑا کر یں گے ، میں نے کہا یہ میں نے مومن جی کی نسبت کہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دن میں گھوڑے پر سوار تھا کہ گھوڑے نے یکدم منہ زوری اختیار کی اور قریب تھا کہ مجھے لیکر بھاگ جاتا اتنے میں آگے بڑھ کر مومن کی نے اس کی باگ منہ کے پاس سے پکڑ لی۔اس پر گھوڑا اور بد کا۔اس