تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 211
۲۰۹ حاضر ہونے کی اطلاع بھجوائی۔دفتر کی طرف سے اوپر جانے والی سیٹر ہیوں میں میں کھڑا تھا کہ حضور نفس نفیس فوراً ہی تشریف لائے۔دروازہ خود کھولا۔حضور اس وقت ننگے سر تھے۔ململ کا سفید کھلا کر تہ اور شلوار پہنے ہوئے ، ہاتھ میں ایک کا غذ تھا۔خاکسار نے سلام عرض کیا اور مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔حضور نے فرمایا الفضل بند ہو گیا ہے۔اب ناروق جاری ہو رہا ہے تم ابھی لاہور جا کر فوراً کام شروع کر دو اور میرا یہ پیغام جاتے ہی صفحہ اول پر شائع کر دو۔بعد میں تمہیں اور ہدایات ملتی رہیں گی۔یہ فرماتے ہی وہ کا غذ جس پر حضور کا اپنے قلم سے لکھا ہوا پیغام تھا مجھے عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میں ایک دفعہ اسے حضور کے سامنے ہی پڑھ لوں۔تاکہ حضور کی تحریر پڑھنے میں اگر مجھے کوئی مشکل ہو تو وہ دور ہو جائے اور اخبار میں شائع کرتے وقت کوئی غلطی نہ ہو جائے۔چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں اُسی وقت خاکسار نے حضور کا وہ پیغام پڑھا بلکہ پڑھ کر حضور کوشنا یا اور الحمد للہ کہ میرے پڑھنے اور سنانے سے حضور اقدس کو ایک گونہ اطمینان ہوا اور مجھے لاہور جاتے کی اجازت مرحمت فرمائی۔اور فرمایا کہ میں اپنے کام کی رپورٹ جلد جلد حضور کی خدمت میں بھیجتا رہوں۔چنانچہ اُسی وقت خاکسار لاہور کے لیے روانہ ہو گیا۔اور وہ پیغام میں میں یہ ذکر تھا کہ خدا میری مدد کے لیے دوڑتا ہوا آرہا ہے " فاروق کے پہلے شمارہ کے صفحہ اول پر ملی قلم سے شائع کر دیا گیا۔” فاروق کے اس پہلے پرچہ پر تاریخ اشاعت ۲ مارچ درج ہے۔ویسے یہ شائع ر مارچ ہی کو ہوا تھا۔اس کے بعد ابھی تین دن بھی نہ گزرے تھے کہ لاہور میں مارشل لاء لگ گیا۔اور فی الحقیقت اس وقت یہی معلوم ہوتا تھا کہ خدا اپنے مظلوم اور بے گناہ بندوں کی حفاظت کے لیے دوڑ کر آگیا ہے۔تین دن قبل حضور کے اس پیغام کی اشاعت اور اسکے معا بعد کے حالات ہر احمدی کے ایمان و استقامت کو بڑھانے اور اللہ تعالیٰ کی ہستی پر تو کل اور یقین اور خدائی نصرت و تائید کا ایک نہایت عظیم الشان منہ بولتا نشان تھے۔۔۔اگر چہ ہفت روزہ فاروق کی زندگی اُس وقت کے حالات کی وجہ سے بہت مختصر ثابت ہوئی لیکن اس کی پہلی اشاعت میں ہی حضور کے اس تاریخی پیغام نے اسے سلسلہ کی تاریخ میں زندہ جاوید بنادیا ہے یا سلہ نه غیر مطبوعه (ریکار دشعبه تاریخ احمدیت)