تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 201
۱۹۸ تھے۔چنانچہ ایک واقعہ ایک سی آئی ڈی کا افسر آیا ایک پٹھان لڑکے کو اس نے دیکھا کہ وہ بیوقوف سا ہے اور اس کی تعلیم اچھی نہیں ہے۔اس لیے اس نے خیال کیا کہ اس نوجوان سے بات معلوم ہو جائے گی چنانچہ اس نے اسے کہ تم مجھے وہ جگہ دکھاؤ جہاں تم نے لڑائی کا سامان رکھا ہوا ہے۔اس لڑکے نے کہا تم میرے ساتھ آجا طی چنانچہ اس لڑکے نے اس سی آئی ڈی افسر کو ساتھ لیا اور ایک مسجد میں لے گیا۔وہاں قرآن کریم کا درس ہو رہا تھا۔اس لڑکے نے کہا یہ ہماری لڑائی کی تیاری ہے۔+ اس افسر نے کہا یہ کیا تیاری ہے۔میں نے تو پوچھا تھا کہ وہ جگہ دکھاؤ جہاں تمہارے ہتھیار پڑے ہوئے ہیں۔وہ لڑکا اُسے پھر ایک اور مسجد میں لے گیا۔وہاں بھی قرآن کریم کا درس ہو رہا تھا۔اس افسر نے کہا تم نے پھر غلطی کی ہے۔تم مجھے وہ جگہ بتاؤ جہاں تم نے مقابلہ کے لیے سامان جمع کیا ہوا ہے۔تم لوگ کمزور ہو اس لیے تم نے مقابلہ کے لیے ضروری تیاری کی ہو گی۔وہ لڑکا کہنے لگا اچھا آؤ میں تمہیں اور جگہ دکھاؤں۔جہاں ہمارا فوجی سامان پڑا ہے۔وہ افسر خوش ہو گیا اور اس کے ساتھ ہو لیا۔چنا نچہ وہ پھر اُسے ایک اور مسجد میں لے گیا۔وہاں بھی قرآن کریم کا درس ہو رہا تھا۔وہ آخر کہنے لگا تم مجھے پھر ایسی جگہ لے آئے ہو جہاں قرآن کریم کا درس ہو رہا ہے اس لڑکے نے کہا نہیں تو یہی فوجی سامان دیا جاتا ہے اور یہ میں نے تمہیں دیکھا دیا ہے۔باقی رہا ظاہری سامان۔سو میں تو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ سر جھکاؤ اور مار کھاؤ۔یہ کہہ کر اس نے اپنے سر سے ٹوپی اتاری اور اپنے سرپر چیست مار کر سر جھکا لیا اور کہا ہمیں تو بس یہی سکھایا جاتا ہے کہ مخالف کے آگے اپنا سمجھے جادو وہ افسر کہنے لگا اس طرح تو لوگ تمہیں مار دیں گے۔وہ پٹھان لڑکا کہنے لگا پھر کیا ہو گا ہمیں شہادت نصیب ہو گی اور کیا ہو گا۔اس پر وہ افسر بالیوس ہو کر چلا گیا۔وہ افسر سمجھتا ہو گا کہ شاید یہ لڑکا بہت ہیو قوت ہے لیکن تھا وہ بڑا عقلمند۔دین کے لیے مارا جانا عزت کی بات ہوتی ہے۔ذلت نہیں ہوتی۔قرآن کے ذریعہ مقابلہ کر نا ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔تلوار اور بندوق قرآن کریم کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔جس کے ساتھ قرآن ہے اس کے ساتھ سب کچھ ہے۔اور جس کے ساتھ قرآن نہیں ساری کے تو پنچانے ، ہوائی جہاز اور گولہ بارود بھی اس کے پاس موجود ہوں تو اُسے کوئی فائدہ