تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 202
199 نہیں دے سکتے۔جس کے پاس قرآن کریم ہے اور جس کے پاس خدا ہے اُسے دنیا کے کسی تو پی اے ہوائی جہاز ، بندوقوں اور تلواروں کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیوی تو بچانے ، بندوقیں اور تلواریں خداتعالی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں تلے ۱۹۵۳ء میں جب فسادات ہوئے تو بعض احمدی دوسرے احمدیوں کی خبر دوسرا واقعہ لینے کے لیے بچاس پچاس میں تک خطرہ کے علاقہمیں سے گزر کر گئے اورانہوں نے احمدیوں کی مدد کی۔ایک عورت ہمارے پاس سیالکوٹ کے علاقہ سے آئی۔اور اس نے بتایا کہ ہمارے گاؤں میں دو تین احمدی ہیں جن کو لوگ باہر نکلنے نہیں دیتے اور اگر نکلیں تو ان کو مارتے ہیں۔آخر میں نے سوچا کہ میں خود ان کے حالات سے آپ کو اطلاع دوں۔چنانچہ میں پیدل چل کر سیالکوٹ پہنچی اور پھر سیالکوٹ سے ربوہ آئی۔اس پر میں نے اُسی وقت ایک قافلہ تیا ر کیا جس میں کچھ ربوہ کے دوست تھے اور کچھ باہر کے اور میں نے انہیں کہا کہ جاؤ اور ان دوستوں کی خبر لو۔اسی طرح سیالکوٹ کی جماعت سے بھی کہو کہ وہ ان کا خیال رکھے ہے تیرا واقعہ دو لا ہور میں ہی ایک گھر پر غیر احمد می حملہ کرنے آگئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم نے اس مکان کو جلا دینا اور احمدیوں کو مار ڈالتا ہے۔اس پر ایک غیر احمدی عورت اس مکان کی دہلیز کے آگے لیٹ گئی اور کہنے لگی پہلے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر لو۔پھر پیٹیک آگے بڑھ کر احمدیوں کو مار لینا ورنہ جب تک میں زندہ ہوں میں تمہیں آگے نہیں بڑھنے دوں گی اس طرح ایک دوست نے ستایا کہ ان کے گھر پر حملہ ہوا اور مخالفین کا بہت بڑا ہجوم ان کے مکان کی طرف آیا۔وہ اس وقت یہ آمدہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں وہ کیا دیکھتے ہیں کہ جب حملہ کرنے والے قریب آئے تو ایک نوجوان جواُنکے آگے آگے تھا گالیاں دیتے ہوئے مکان کی طرف بڑھا اور کہنے لگا ان مرزا نیوں کو مار دو گر جس وقت وہ لوگ مکان کے پاس پہنچے تھے تو وہ نوجوان سب کو مرنے کے لیے کہ دیتا اور اس کے مڑجانے کی وجہ سے دوسرے لوگ که روزنامه الفتن سر شهادت ۱۳۷۳ ۱۳ اپریل ۱۹۵۹ ، ۲۰ کالم ۳ - ۴۲ ه الفضل ۱۲۸ جون ۱۹۵۶ ءمت ایضا س ر اکتوبر ۱۹۵۸ دست