تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 188 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 188

1AQ دو فصل دوم صوبہ سرحد ان دونوں صوبہ سرحد میں سلم لیگی حکومت تھی اور اس کے وزیر اعلیٰ خان عبد القیوم خان تھے جنہوں نے اپنی حب الوطنی ، فرم شناسی اور حسن تدبیر و انتظام کی بہت اعلیٰ اور قابل تعریف مثال قائم کی انہوں نے امن و امان کے قیام کے لیے نہ صرف سرحد اسمبلی میں بلکہ مانسہرہ، ایبٹ آباد ، بالاکوٹ وغیرہ مقامات پر نہایت زور دار اور مؤثر تقریر میں ہیں چنانچہ سید عبید الرحیم شاہ صاحب نے بھگاہ مضلع مانسہرہ سے ۲۱ مارچ ۱۹۵۳ء کو حضرت مصلح موعود کی خدمت میں لکھا کہ ۱۴ مارچ ، کو وزیر اعلی سرحد نے مانسہرہ ابیٹ آباد میں تقریر ہی کہیں۔کل ۱۵ مارچ کو بالا کوٹ میں تقریب کی پنجاب کے واقعات کی انہوں نے پر زور مذمت کی، لوگوں کو پر امن رہنے کی تلقین کی موجودہ فتنہ کا بانی ، پاکستان کے دشمن عناصر کو قرار دیا۔اکثر شریف لوگوں نے اس فتنہ کو سخت ناپسند کیا ہے یہ اسی طرح پیر محمد زمان شاہ صاحب نے مانسہرہ سے ہار مارچ ۱۹۵۳ کے مکتوب میں حضور کو اطلاع کنیم اما در وزیر اعلیٰ کی تقریبہ مانسہرہ میں ہوئی یہ تقریر بڑے جوش سے اور رعب و دبدبہ سے کی گئی۔نہایت معقول تقریر تھی۔دلائل سے بھی لوگوں کو سمجھایا کہ یہ تحر یک سیاسی تحریک ہے اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔سب مسلمان رسول خدا کو خاتم النبیین یعنی کرتے کرتے ہیں۔پنجاب کا بتایا کہ یہ شرارت پنجاب سے شروع ہوئی ہے اور اب پنجاب میں گولی چل رہی ہے۔مسلمان مسلمان کو مار رہا ہے ایسا نہ ہو کہ یہاں بھی گورنمنٹ کو سخت کارروائی کرنی پڑے۔دو دن پہلے بھی تم پر گولی چلتی تھی مگر حکام نے تم سے مہربانی کی اس تقریر کا اثر لوگوں پر اچھا معلوم ہوتا تھا۔وزیر اعلی سرحد خان عبد القیوم خان صاحب نے تقریریں ہی نہیں کیں بلکہ اپنی کامیاب حکمت عملی اور مضبوط اقدامات کے ساتھ صوبہ بھر میں بد امنی اور شور شخص اور فساد کو کچل کے رکھ دیا اور