تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 124
١٢٣ تاه با رچ مختلف قسم کے مشورے اور خفیہ اجلاس ہوتے رہے۔فیصلہ ہوا کہ جو کچھ جمعہ کے خطبہ میں امام مسجد کہے گا اس پر عمل ہو گا۔جمعہ کے خطبہ میں مولوی۔۔۔نے کہا کہ مجامبر اسلام لاہور وغیرہ شہروں میں اپنی چھاتیوں پر گولیاں کھا رہے ہیں لیکن تم ہو اپنے گھروں میں خواب غفلت ہیں میں سورہے ہو۔اب وقت آگیا ہے کہ اس فرقہ مرزائیہ کے ہر فرد کو موت کے گھاٹ اتار دو۔کفن سر پر باندھو۔اگر مارے گئے تو شہید اور نہ غازی۔ثواب آخرت کے علاوہ اس دنیا کی لوٹ سے حصہ پاؤ۔مرزائیوں کی عورتیں تم پر بلا نکاح حلال ہیں۔اب ہمار می شکر حکومت اور مرزائی دونوں سے ہے۔انشاء اللہ ہم ان کو مٹا کے چھوڑیں گے۔۔۔۔۔بعد نماز جمعہ ایک خوفناک جلوس نکالا گیا جس میں ہے صد نفوس شامل ہوئے کافی تعداد کے پاس مہلک ہتھیار تھے۔احمدیوں کے بزرگوں کو دل کھول کر گالی گلوچ کیا گیا اور ہر احمدی کے بند دروازے (کیونکہ احمدیوں نے خوف سے دروار بند کر لیے تھے) کے سامنے پکارا گیا کہ تمہیں ایک دو دن کی مہلت دی جاتی ہے کہ اپنے غلط عقیدہ کو بدل دو۔ورنہ تمہارے گھر بار لوٹ لئے جائیں گے۔تمہاری عورتوں کی بے عزتی کی جائے گی اور تمہیں قتل کر دیا جائے گا اور کہا کہ تمہاری عورتوں کی تقسیم اب ہی کر لی ہے۔۔۔۔۔افراد جماعت کو پابند مسکن کر دیا اور باہر کی دنیا سے ان کا سلسلہ پیغام رسانی توڑ دیا گیا۔ہر قسم کی تنگی دی گئی۔9 مارچ کو پروگرام پر عمل پیرا ہونے کے لیے بعد دو پر جلوس نکالا گیا۔جلوس نہایت خوفناک صورت اختیار کیے ہوئے تھا۔ان کے ارادے نہایت بڑے تھے لیکن قدرتاً تمام گاؤں میں افواہ پھیل گئی کہ عاشق محمد خان احمدی چک نمبر ۶ہ نے تھانہ میں اطلاع کی ہوئی ہے اور پولیس آرہی ہے۔اس افواہ نے دشمنوں کے منصوبہ کو عملی زنگ اختیار نہ کرنے دیا اور جلوس کو خود ہی پولیس کے خوف سے منتشر کر دیا اور فیصلہ کیا گیا کہ آج کا دن پولیس کا انتظار کر لو اور احمدیوں کے قتل ، لوٹ مار اور عورتوں کی بے عزتی کو کل پر چھوڑ دو۔اے ایس آئی چک ۵۵ گراب ۱۰ بجے قبل دو پر پہنچ گئے اور نمبردار (وغیرہ) سے وعدہ لیا کہ ہم ہر قیمت پر گاؤں میں امن قائم رکھیں گے۔افسوس با وجود سجالی امن کا اقرار کرنے کے پھر بھی اس جماعت پر یلغار کی گئی جیسا کہ اسی چک کے متعلق محمد حسین خان صاحب سیکر میری امور عامہ جڑانوالہ نے تحریر ی شہادت دی کہ :