تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 123 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 123

اسی طرح ڈاکٹر صاحب کے بچے محمد اکرم عمر 4 سال کو بانہارمیں لڑکوں نے پیٹا۔نیز میاں عبدالرحیم صاحب صراف کے بچے کو بازار سے گزرتے وقت پیٹا " پچک نمبر ۱۹ اگ رب 11 - میاں فضل دین صاحب قوم جٹ پیشہ زمیندار نے با قرار صالح مندرجہ ذیل بیان دیا کہ : " ہمارے گاؤں چک نمبر 19 اگ رب میں عرصہ دو سال سے زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے خلاف ہر قسم کی شرارت کی جارہی ہے۔مورخہ ہم ار جولائی ۹۵۷اد کو ایک مخالف نے بلا کر ہماری بے غرقی کی اور ڈرایا کہ احمدیت سے توبہ کرو ورنہ تم سب قتل کر دیئے جاؤ گے ہم اپنے عقائد پر ڈٹے رہے جس پر اولاً ہمارے ساتھ تمام تعلقات منقطع کرلیے۔ہمارا حقہ پانی بند کر دیا گیا۔کنویں سے پانی لینے سے روک دیا گیا۔فرداً فرد اسب احمدیوں کو زدو کوب کرنا شروع کر دیا موجودہ شورش میں تمام گاؤں کے گاؤں نے قرآن کریم اپنی لڑکیوں کے سروں پر نا معقد رکھ کر قسم کھائی کہ ہم لڑکیوں سے بڑا کریں اگر ہم ایک ایک مرزائی قتل نہ کر دیں۔یہ واقعہ ۶ مارچ ۱۹۵۳ء کا ہے ایک شخص نے ہمیں کہا کہ تم نے ہمارے مولوی ککڑ وائے ہیں۔اب ہم سے بھلا ایک گھر مرزائیوں کا ختم نہ ہو سکے گا۔چنانچہ سب لوگ جلوس کی شکل میں ہمارے گھر کے سامنے اکٹھے ہو گئے اور نہایت مخش قسم کی گالیاں دینی شروع کر دیں۔ہم اندر سے دروازے بند کر کے بیٹھے رہے۔بعد میں ان میں سے ایک نے کہا کہ ایک مرزائی نے تھانہ میں جا کہ رپورٹ لکھوا دی ہے۔یہ سن کر سب جلوس منتشر ہو گیا۔اس طرح ہم بچ گئے۔پھر ہم رات کو نہ بجے بیچ بیچا کہ تھانہ جڑانوالہ میںپہنچے۔انچارج صاحب وہاں گئے اور پچیس آدمیوں کے انگو تھے اس تحریر پر لگوائے کہ وہ آئندہ شورش نہ کریں گے۔اس سے پندرہ روز پہلے خاکسار فضل الدین کو بلا کر جوتے لگائے گئے۔نذیر احمد کو اس قدر زد و کوب کیا گیا کہ وہ بے ہوش ہو گیا۔محمد شریف احمدی کے پیٹ میں چا تو گھونپ دیا گیا مگر خدا کے فضل سے جان سے سب پہنچ گئے " / - ۱۲ - میاں عاشق محمد خان صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ چیک ۵۶ - پچک نمبر ۵۶ - ۵۷ ہ نے بیان دیا کہ :- اگر چک ۵۶ - ۵ ه گ - ب تحصیل جڑانوالہ ضلع لائلپور کی جماعت احمدیہ کے خلافت کیکم مارچ