تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 125
سے ور چک نمبر ۵۵ ۵۶ میں احمدیوں کو گھیر لیا گیا۔تقریباً ساری جماعت کو قتل کرنے کی دھمکی۔مجبور کر کے دستخط لے لیے کہ وہ احمدیت سے بانہ آتے ہیں۔ماسٹر عاشق محمد صاحب اور سید عنایت علی شاہ صاحب کو بہت پریشان کیا۔مکان میں بند رکھا۔قتل کرنے کو تیار ہو گئے۔ان کی طرف سے جڑانوالہ میں اطلاع آجانے پر ہم نے پولیس بھیجوا دی۔پولیس نے حالات پر قابو پا لیا - جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعت : چک نمبر ۲۶ تھانہ ستھیانہ احمدی ضلع والہور کا بیان ہے۔چک نمبر ۳۶ ستھیانہ میں چند احمدی گھر ہیں۔مولویوں نے وہاں جا کر تقریریں کیں۔احمدیوں پر حملہ ہوا۔بارہ احمدی سخت زخمی ہوئے ٹیکوے ہلم، کلہاڑے ان پر استعمال نہوئے۔چار کی حالت ایسی تھی کہ قریب الموت تھے۔۱۲۸ مارچ ۱۹۵۳ کو یہ واقعہ ہوا۔۲۹ مارچ کو راقم مع ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر رشید احمد صاحب ایمبولینس کا رے کر پہنچے۔ڈاکٹر صاحب نے چار آدمیوں کی حالت انتہائی مخدوش پاکر انہیں شہر لائل پور کے ہسپتال میں منتقل کر دیا۔۳۵ غیر احمدی زیر دفعہ ۳۰۷/۴۹ زیر چالان نہیں لیکن دوسرے تعمیر ے روز بعد احمدی مجروحین اور ان کے لواحقین کا بھی اسی دفعہ میں چالان کر دیا گیا۔دونوں مقدمے عدالت میں ہیں۔اس لیے اُن کے متعلق کوئی رائے زنی نہیں کی جاسکتی۔۱۵ - حمید احمد صاحب ساکن چک نمبر ۳۶ گرب تحصیل جڑانوالہ ضلع لائلپور نے لکھا کہ میرے چک میں احمدیوں کے 24 گھر ہیں۔ہمارے گاؤں کے مولویوں نے بہت اشتعال پیدا کیا اور گاؤں میں ماہ مارچ ۱۹۵۳ء میں قریباً ہر روزہ جلسہ کیا اور احمدیہ جماعت کے خلاف بہت گندا اچھالا۔سخت بد زبانی کرتے۔اسی اشتعال پھیلانے کی وجہ سے پولیس نے سر کردہ چار مولویوں کوگرفتار کر لیا اور اس طرح چک میں امن برقرار رکھنے میں پولیس کا میاب ہوئی۔یہ چاروں مولوی چند دن کے بعد رہا ہو کر واپس گاؤں میں آگئے اور باقاعدہ تنظیم کے ساتھ حملہ کی تیاری شروع کردی۔ہم احمدیوں کا گاؤں کے لوگوں سے بائیکاٹ کروایا۔جلوس صبح شام نکالتے ، نہایت خش نا قابل برداشت اور انتہائی اثر انگیز اور اشتعال انگیز گالیاں نکالتے رہے۔اور گھروں میں پتھر پھینکتے رہے اور پولیس نے ہماری یہ پورٹ پر دو سپاہی چک میں تقریبا دس یوم رکھے۔اور