تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 117
نکل جانا نا ممکن نظر آتا تھا۔مجبوراً خدا کا نام لے کر بیوی سمیت مکان میں دیکا بیٹھا رہا۔کچھ رات گزرنے پر ایک ہمدرد ہمسائے نے آکر اطلاع دی کہ آپ فوراً مکان سے نکل جائیں سخت خطرہ ہے۔چنانچہ میں اپنے بیوی بچوں اور ضعیف والد صاحب کو ساتھ لیسے رات کی تاریکی میں مکان سے نکل گیا اور ہم چھپتے چھپاتے راتوں رات ہے میں فاصلہ طے کر کے نہایت خستہ حالی میں موضع ستھوٹی والہ میں پہنچ گئے۔جہاں میرے ایک رشتہ دار رہتے ہیں۔دوسرے دن اطلاع ملی کہ واقعی ہمارے مکان سے نکل جانے کے بعد حملہ آور آئے اور دروازہ توڑنے کی کوشش کی۔چکیں جلا ڈالیں۔ایک ہمسایہ کے گھر کے راستے سے اوپر کو ٹھے پر چڑھ گئے۔مگر ہمیں موجو د نہ پا کر غیظ و غضب کی حالت میں واپس لوٹے۔ہم ستھوٹی والہ میں تقریباً در ، دن پناہ گزیں رہے۔حالات قدرے درست ہونے پر واپس اپنے گھر آئے۔ابھی تک اس بائیکاٹ اور اشتعال انگیزی کا میرے کاروبار پر بہت بڑا اثر ہے۔۔۔۔۔مورخه ۳ ر اپریل کو اچانک میرے مکان کی مکمل تلاشی ہوئی مگر پولیس کو کوئی قابل اعتراض چیز نہ ملی " ۴ - بیان چوہدری عبد الرحمن صاحب = چک نمبر ۲۶/ ج - ب تحصیل لا پلیور | میں چک نمبر ۲۶۱ کا باشندہ ہوں۔اس چک میں تین گھر احمدیوں کے ہیں۔مورخہ ہم مارچ بوقت چار بجے شام میرے گاؤں کے تین چار صد آڈیوں نے جلوس بنایا اور میرے گھر آئے۔جلوس میں شامل آدمیوں نے میرے گھر کی کچی دیوار گرادی۔تنور گرا دیا۔چبوترا اکھیڑ دیا۔گالیاں نکالیں۔گھر میں پتھر پھینکے۔میری دو لڑکیوں کو مارا۔دوسرے دو احمدیوں کے گھروں پر بھی گئے۔مگر ان کے گھر میں داخل نہ ہوئے۔باہر سے ہی پتھر مارتے رہے۔ڈھکوٹ تھانہ میں رپورٹ کی۔تھانیدار نے گاؤں کے دس سر کردہ آدمیوں کو بلایا۔سمجھایا اور اس طرح امن ہو گیا " چک التحصیل جڑانوالہ | R۔B ۵۱ - بیان حکیم رحیم بخش صاحب - میرے چک میں قریباً تیس گھر احمدیوں کے ہیں اور اپنے احمدیوں کی برادری کے قریباً ساٹھ گھر ہیں۔مارچ کے پہلے ہفتہ میں تین مولوی کار میں دیہات کا دورہ کر رہے تھے۔کار میں لاؤڈ سپیکر تھا۔یہ کار مولویوں سمیت ہمارے چک میں قریبا دو بجے